چشمہٴ معرفت — Page 144
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۴۴ ۱۳ ہے کہ وید کی طرف وہ کمال منسوب کیا جاتا ہے جو اس میں پایا نہیں جاتا۔ علاوہ اس کے کون شخص اس سے انکار کر سکتا ہے کہ ابتدائے زمانہ کے بعد دنیا پر بڑے بڑے انقلاب آئے۔ پہلے زمانہ کے لوگ تھوڑے تھے اور زمین کے چھوٹے سے قطعہ پر آباد تھے اور پھر وہ زمین کے دور دور کناروں تک پھیل گئے اور زبانیں بھی مختلف ہو گئیں اور اس قدر آبادی بڑھی کہ ایک ملک دوسرے ملک سے ایک علیحدہ دنیا کی طرح ہو گیا تو ایسی صورت میں کیا ضرور نہ تھا کہ خدا تعالیٰ ہر ایک ملک کے لئے الگ الگ نبی اور رسول بھیجتا اور کسی ایک کتاب پر کفایت نہ رکھتا ۔ ہاں جب دنیا نے پھر اتحاد اور اجتماع کے لئے پلٹا کھایا اور ایک ملک کو دوسرے ملک سے ملاقات کرنے کے لئے سامان پیدا ہو گئے اور باہمی تعارف کے لئے انواع واقسام کے ذرائع اور وسائل نکل آئے۔ تب وہ وقت آگیا کہ قومی تفرقہ درمیان سے اٹھا دیا جائے اور ایک کتاب کے ماتحت سب کو کیا جائے تب خدا نے سب دنیا کے لئے ایک ہی نبی بھیجا تا وہ سب قوموں کو ایک ہی مذہب پر جمع کرے اور تا وہ جیسا کہ ابتدا میں ایک قوم تھی آخر میں بھی ایک ہی قوم بنا دے۔ اور یہ ہمارا بیان جیسا کہ واقعات کے موافق ہے ایسا ہی خدا تعالی کے اس قانون قدرت کے موافق ہے جو زمین و آسمان میں پایا جاتا ہے کیونکہ اگر چہ اُس نے زمین کو الگ تاثیرات بخشی ہیں اور چاند کو الگ اور ہر ایک ستارہ میں جدا جدا قو تیں رکھی ہیں مگر پھر بھی باوجود اس تفرقہ کے سب کو ایک ہی نظام میں داخل کر دیا ہے اور تمام نظام کا پیشرو آفتاب کو بنایا ہے جس نے ان تمام سیاروں کو انجن کی طرح اپنے پیچھے لگا لیا ہے پس اس سے غور کرنے والی طبیعت سمجھ سکتی ہے کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ کی ذات میں وحدت ہے ایسا ہی وہ نوع انسان میں بھی جو ہمیشہ کی بندگی کے لئے پیدا کئے گئے ہیں وحدت کو ہی چاہتا ہے اور درمیانی تفرقه قوموں کا جو باعث کثرت نسل انسان نوع انسان میں پیدا ہوا وہ بھی ۱۳۷ در اصل کامل وحدت پیدا کرنے کے لئے ایک تمہید تھی کیونکہ خدا نے یہی چاہا کہ پہلے نوع