چشمہٴ معرفت — Page 130
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۳۰ چشمه معرفت (۱۲۲) ایک قطرہ سے انسان کیونکر پیدا ہو جاتا ہے اور ہم سمجھ نہیں سکتے کہ دیکھنے والی آنکھیں کیونکر اس میں پیدا ہو جاتی ہیں اور ہم اس بات کی تہ تک نہیں پہنچ سکتے کہ سننے والے کان کیونکر اس میں بنائے جاتے ہیں اور ہمارے خیال میں نہیں آتا کہ انسان کی صورت اور ہاتھ اور پیر اور دل اور دماغ اور جگر اور تمام اعضا کیونکر اس میں بن جاتے ہیں۔ پس بلا شبہ یہ تمام امور ہمارے نزدیک ایسے ہی محال ہیں جیسے نیست سے ہست ہونا کیونکہ ہم اُن کے بنانے پر قادر نہیں اور ہماری عقل کوئی فلسفی دلیل اس بات پر قائم نہیں کر سکتی کہ کیونکر یہ تمام اعضا بن جاتے ہیں۔ پس جیسا کہ ان تمام اعضاء کا بننا ہماری عقل سے برتر ہے ایسا ہی روح کا بھی پیدا ہونا ہماری عقل سے برتر ہے اور جبکہ ہم واقعی طور پر ثابت کر چکے ہیں اور چشم خود دیکھ چکے ہیں کہ روح پیدا ہوتی ہے تو پھر امور مشہودہ و محسوسہ سے ہم انکار کیوں کریں؟ ہماری عقل اور فہم سے جیسا کہ روح کا پیدا ہونا برتر ہے ایسا ہی ایک قطرہ سے انسان کا اپنی تمام قوتوں کے ساتھ بنا برتر ہے۔ پس یہ کمال بے حیائی ہے کہ جو ایک محال ہمارے نزدیک ہے اُس کو تو جائز سمجھ لینا اور جو دوسرا امریعنی روحوں کا پیدا ہونا ہماری عقل اور فہم سے برتر ہے اس کو محال اور ممتنع قرار دینا۔ خدا کے کارخانہ قدرت میں انسان کی مجال نہیں کہ کچھ دست اندازی کر سکے۔ ہزار ہا اسرار ربوبیت ہیں جو ہمیں سمجھ نہیں آتے اور پھر مشاہدات کے ذریعہ سے ہمیں ماننے ہی پڑتے ہیں ۔ پس کیا ابھی تک اس میں کچھ شک ہے کہ مشاہدات ہمیں اس بات کے ماننے کے لئے مجبور کرتے ہیں کہ روحیں پیدا ہوتی ہیں اوپر سے نہیں آتیں مثلاً زمین کے نیچے کا طبقہ جو ستر انٹی ہاتھ تک کھود کر پھر دکھائی دیتا ہے اس میں جاندار پائے جاتے ہیں۔ پس کیا کوئی عقل تجویز کر سکتی ہے کہ روح شبنم بن کر نیچے چلی جاتی ہے۔ پس جب کہ سچا واقعہ یہی ہے کہ روح پیدا ہوتی ہے تو اس نفس الامر کے برخلاف وید کے پرمیشر کا یہ بیان کہ روح شبنم کی طرح آسمان سے گرتی ہے یہ ایسا جھوٹا اور خلاف واقعہ بیان ہے کہ ایک بچہ بھی اس پر ہنسے گا۔ کیا وہ جانور جوصرف گوشت کھاتے