چشمہٴ معرفت — Page 127
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۲۷ چشمه معرفت میں خیال گذرا کہ ضرور اس شخص نے کوئی چالا کی کی ہے جو یہ کتاب پیش کرتا ہے میں نے وعدہ کیا کہ چونکہ میں ناگری نہیں پڑھ سکتا اس لئے بعد میں تلاش کر کے وہ موقعہ اپنی کتاب میں لکھ دوں گا ۔ پھر میں قادیان آیا اور ایک برہمو صاحب جو نیک طبع اور بے تعصب تھے اور اُن کا نام 119 نو بین چند ر تھا میں نے ان کی طرف ایک خط لکھا کہ کیا آپ مجھے بتلا سکتے ہیں؟ کہ ایسا مضمون ستیارتھ پرکاش کے کس موقعہ پر ہے۔ اُن کا جواب آیا کہ یہ مضمون ستیارتھ پر کاش میں موجود ہے مگر یہ آریہ لوگ بڑے چالاک اور افتر اپرداز ہیں۔ انہوں نے پہلی کتاب جس میں یہ مضمون تھا تلف کر دی ہے اور نئی کتاب چھپوائی ہے اور اُس میں سے یہ مضمون نکال دیا ہے اور لکھا کہ وہ پہلی کتاب میرے پاس موجود ہے مگر اب میں لاہور سے جانے والا ہوں اور میں نے تمام کتابیں وطن کی طرف بھیج دی ہیں اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ بیس دن کے اند رستیارتھ پر کاش کے اُس مقام کی نقل کر کے بھیج دوں گا چنانچہ انہوں نے اپنے وعدہ کے موافق اس مقام کی نقل بھیج دی اور میں نے اُس کو اپنی کتاب سرمہ چشم آریہ میں درج کر دیا لیکن اب میں کہتا ہوں کہ گوآریوں نے ستیارتھ پر کاش سے وہ مقام اُڑا دیا تب بھی اُن کے اس عقیدہ کا جھوٹ ایسا صاف طور پر کھل گیا ہے کہ اب اس پر کوئی پردہ نہیں پڑ سکتا۔ کیونکہ تمام بر و بحر میں جس طور سے ہر ایک حیوان کے بچوں میں جان پڑتی ہے وہ ایک ایسا طریق ہے جس سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ ہر ایک روح اندر سے ہی پیدا ہو جاتی ہے باہر سے کوئی گذشتہ روح ہر گز نہیں آئی جیسا کہ ہم کئی مثالیں اس سے پہلے بیان کر چکے ہیں۔ دوسرا جھوٹ وید کے پرمیشر کا جس کا وہ خود اقراری ہے اُس کا یہ قول ہے کہ وہ سرب شکتی مان ہے یعنی قادر مطلق ہے حالانکہ بقول آریہ سماج وید میں اُس نے اپنی کمزوری کا اعتراف کر کے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ نہ روحیں پیدا کر سکتا ہے نہ ذرات عالم پیدا کر سکتا ہے پس جب کہ وہ کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتا تو کس بات کا قادر مطلق ہے کیا یہ سفید جھوٹ نہیں ہے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وید کے پر میشر کے نزدیک ایک اور پر میشر ہے جو