چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 92 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 92

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۹۲ چشمه معرفت ۸۴ غالب ہے کیونکہ غلبہ دکھلانے کے لئے یہ شرط ہے کہ ان تمام مذاہب کا لوگوں کو علم بھی ہو جن پر غالب ہونے کا اظہار بھی کیا گیا ہے اور نیز جن کو مغلوب سمجھا گیا ہے وہ بھی اس بات کا علم رکھتے ہوں کہ ہم اس الزام کے نیچے ہیں اور یہ تو تبھی ہو سکتا ہے کہ مختلف ممالک کے لوگ ایسے باہم قریب ہو جائیں کہ گویا وہ ایک ہی محلہ میں رہتے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ امر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ظہور میں نہیں آسکا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کئی قو میں زمین کے دور دراز کناروں پر آباد تھیں اور پیغام پہنچانے اور سفر کرنے اور باہمی جلد ملاقات کرنے کے وہ سامان موجود نہ تھے کہ جواب اس وقت ہمارے اس زمانہ میں موجود ہیں۔ (۲) دوسرا امر جو اس بات کے سمجھنے کے لئے شرط ہے کہ ایک دین دوسرے تمام دینوں پر اپنی خوبیوں کے رو سے غالب ہے یہ ہے جو دنیا کی تمام قو میں آزادی سے باہم مباحثات کر سکیں اور ہر ایک قوم اپنے مذہب کی خوبیاں دوسری قوم کے سامنے پیش کر سکے اور نیز تالیفات کے ذریعہ سے اپنے مذہب کی خوبی اور دوسرے مذاہب کا نقص بیان کرسکیں اور مذہبی کشتی کے لئے دنیا کی تمام قوموں کو یہ موقعہ مل سکے کہ وہ ایک ہی میدان میں اکٹھے ہو کر ایک دوسرے پر مذہبی بحث کے حملے کریں اور جیسا کہ دریا کی ایک لہر دوسری لہر پر پڑتی ہے ایک دوسرے کے تعاقب میں مشغول ہوں اور یہ مذہبی کشتی نہ ایک دو قوم میں بلکہ عالمگیر کشتی ہو جو دنیا کی قوموں میں سے کوئی قوم اس کشتی سے باہر نہ ہو ۔ سو اس قسم کا غلبہ اسلام کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں میسر نہیں آسکا کیونکہ اول تو اُس زمانہ میں دنیا کی تمام قوموں کا اجتماع نا ممکن تھا اور پھر ماسوا اس کے جن قوموں سے ہمارے ﴿۸۵ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ پڑا اُن کو مذہبی امور میں دلائل سننے یا دلائل سنانے سے کچھ غرض نہ تھی بلکہ اُنہوں نے اٹھتے ہی تلوار کے ساتھ اسلام کو نابود کرنا چاہا اور عقلی طور پر اس کے رد کرنے کے لئے قلم نہیں اُٹھائی ۔ یہی وجہ ہے کہ اُس زمانہ کی کوئی ایسی کتاب نہیں پاؤ گے