چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 91 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 91

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۹۱ چشمه معرفت قوم کی طرح بن جائیں اور ایک ہی مذہب پر ہو جائیں۔ زمانہ محمدی کے آخری حصہ میں ڈال دی جو قرب قیامت کا زمانہ ہے اور اس تکمیل کے لئے اسی اُمت میں سے ایک نائب مقرر کیا جو مسیح موعود کے نام سے موسوم ہے اور اُسی کا نام خاتم الخلفاء ہے پس زمانہ محمدی کے سر پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اُس کے آخر میں مسیح موعود ہے اور ضرور تھا کہ یہ سلسلہ دنیا کا منقطع نہ ہو جب تک کہ وہ پیدا نہ ہولے کیونکہ وحدت اقوامی کی خدمت اُسی نائب النبوت کے عہد سے وابستہ کی گئی ہے اور اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے اور وہ یہ هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِم یعنی خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ایک کامل ہدایت اور بچے دین کے ساتھ بھیجاتا اُس کو ہر ایک قسم کے دین پر غالب کر دے یعنی ایک عالمگیر غلبہ اس کو عطا کرے اور چونکہ وہ عالمگیر غلبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ظہور میں نہیں آیا اور ممکن نہیں کہ خدا کی پیشگوئی میں کچھ تخلف ہو اس لئے اس آیت کی نسبت اُن سب متقدمین کا اتفاق ہے جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں کہ یہ عالمگیر غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ظہور میں آئے گا کیونکہ اس عالمگیر غلبہ کے لئے تین امر کا پایا جانا ضروری ہے جو کسی پہلے زمانہ میں وہ پائے نہیں گئے ۔ (۱) اول یہ کہ پورے اور کامل طور پر مختلف قوموں کے میل ملاقات کے لئے آسانی اور سہولت کی راہیں کھل جائیں اور سفر کی نا قابل برداشت مشقتیں دور ہو جائیں اور سفر بہت جلدی طے ہو سکے گو یا سفر سفر ہی نہ رہے اور سفر کو جلد طے کرنے کے لئے فوق العادت اسباب میسر آجائیں کیونکہ جب تک مختلف ممالک کے باشندوں کے لئے ایسے اسباب اور سامان حاصل نہ ہوں کہ وہ فوق العادت کے طور پر ایک دوسرے سے مل سکیں اور بآسانی ایک دوسرے کی ایسے طور سے ملاقات کر سکیں کہ گویا وہ ایک ہی شہر کے باشندے ہیں تب تک ایک قوم کے لئے یہ موقعہ حاصل نہیں ہو سکتا کہ وہ یہ دعوی کریں کہ اُن کا دین تمام دنیا کے دینوں پر التوبة : ٣٣