چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 87

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۸۷ چشمه معرفت اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب کہ ایک طرف بائبل سے یہ امر ثابت شدہ ہے کہ ۷۹ یورپ کے عیسائی فرقے ہی یا جوج ماجوج ہیں اور دوسری طرف قرآن شریف نے یا جوج ماجوج کی وہ علامتیں مقرر کی ہیں جو صرف یورپ کی سلطنتوں پر ہی صادق آتی ہیں جیسا کہ یہ لکھا ہے کہ وہ ہر ایک بلندی پر سے دوڑیں گے یعنی سب طاقتوں پر غالب ہو جائیں گے اور ہر ایک پہلو سے دنیا کا عروج اُن کو مل جائے گا۔ اور حدیثوں میں بھی یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ کسی سلطنت کو اُن کے ساتھ تاب مقابلہ نہیں ہوگی ۔ پس یہ تو قطعی فیصلہ ہو چکا ہے کہ یہی تو میں یا جوج ماجوج ہیں اور اس سے انکار کرنا سراسر حکم اور خدا تعالیٰ کے فرمودہ کی مخالفت ہے۔ اس میں کس کو کلام ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے قول کے مطابق اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ کے موافق یہی تو میں ہیں جو اپنی دنیوی طاقت میں تمام قوموں پر فوقیت لے گئی ہیں ۔ جنگ اور لڑائی کے داؤ پیچ اور ملکی تدابیر کے امور میں دنیا میں اُن کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا اور انہیں کی کلوں اور ایجادوں نے کیا لڑائیوں میں اور کیا کسی قسم کے دنیا کے آرام کے سامانوں میں بقیه حاشیه : یہ بیان ہے کہ وہ دجل سے کام لے گا اور مذہبی رنگ میں دنیا میں فتنہ ڈالے گا ۔ سو قرآن شریف میں یہ صفت عیسائی پادریوں کی بیان کی گئی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہ اس تقریر سے ظاہر ہے کہ یہ تینوں ایک ہی ہیں ۔ اسی وجہ سے سورۃ الفاتحہ میں دائمی طور پر یہ دعا سکھلائی گئی کہ تم عیسائیوں کے فتنہ سے پناہ مانگو یہ نہیں کہا کہ تم دجال سے پناہ مانگو۔ پس اگر کوئی اور دجال ہوتا جس کا فتنہ پادریوں سے زیادہ ہوتا تو خدا کی کلام میں بڑا فتنہ چھوڑ کر قیامت تک یہ دعا نہ سکھلائی جاتی کہ تم عیسائیوں کے فتنہ سے پناہ مانگو اور یہ نہ فرمایا جا تا کہ عیسائی فتنہ ایسا ہے کہ قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائیں ، پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ دجالی فتنہ ایسا ہے جس سے قریب ہے کہ زمین و آسمان پھٹ جائیں ۔ بڑے فتنے کو چھوڑ کر چھوٹے فتنہ سے ڈرانا بالکل غیر معقول ہے۔ منہ النساء : ۴۷