چشمہٴ معرفت — Page 86
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۸۶ چشمه معرفت (۷۸) کتابوں میں بھی آیا ہے کہ خدا کے نبیوں کو خدا کی قرنا قرار دیا گیا ہے یعنی جس طرح قرنا بجانے والا قرنا میں اپنی آواز پھونکتا ہے اسی طرح خدا اُن کے دلوں میں آواز پھونکتا ہے اور یا جوج ماجوج کے قرینہ سے قطعی طور سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ قرنا مسیح موعود ہے۔ کیونکہ احادیث صحیحہ سے یہ امر ثابت شدہ ہے کہ یا جوج ماجوج کے زمانہ میں ظاہر ہونے والا مسیح موعود ہی ہوگا ۔ ۷۸) بقيه حاشیه : کہ تمام دنیا میں عیسائی قوم کا غلبہ ہوگا جیسا کہ حدیث یکسر الصلیب سے بھی سمجھا جاتا ہے کہ صلیبی قوم کا اس زمانہ میں بڑا عروج اور اقبال ہوگا ۔ ایسا ہی ایک دوسری حدیث سے بھی یہی سمجھا جاتا ہے کہ سب سے زیادہ اس زمانہ میں رومیوں کی کثرت اور قوت ہوگی یعنی عیسائیوں کی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں رومی سلطنت عیسائی تھی جیسا کہ اللہ تعالی بھی قرآن شریف میں فرماتا ہے غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ ! اس جگہ بھی روم سے مراد عیسائی سلطنت ہے اور پھر بعض احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت دجال کا تمام زمین پر غلبہ ہوگا اور تمام زمین پر بغیر مکہ معظمہ کے دجال محیط ہو جائے گا۔ اب کوئی مولوی صاحب بتلاویں کہ یہ تناقض کیونکر دور ہوسکتا ہے اگر دجال تمام زمین پر محیط ہو جائے گا تو عیسائی سلطنت کہاں ہوگی ۔ ایسا ہی یا جوج ماجوج جن کی عام سلطنت کی قرآن شریف خبر دیتا ہے وہ کہاں جائیں گے ۔ سو یہ غلطیاں ہیں جن میں یہ لوگ مبتلا ہیں جو ہمارے مکفر اور مکذب ہیں ۔ واقعات ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ دونوں صفات یا جوج ماجوج اور دجال ہونے کی یورپین قوموں میں موجود ہیں کیونکہ یا جوج ماجوج کی تعریف حدیثوں میں یہ بیان کی گئی ہے کہ ان کے ساتھ لڑائی میں کسی کو طاقت مقابلہ نہیں ہوگی اور مسیح موعود بھی صرف دعا سے کام لے گا اور یہ صفت کھلے کھلے طور پر یورپ کی سلطنتوں میں پائی جاتی ہے اور قرآن شریف بھی اس کا مصدق ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ۔ اور دجال کی نسبت حدیثوں میں الروم :۴۳ ٢ الانبياء : ۹۷