چشمہٴ معرفت — Page 85
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۸۵ چشمه معرفت اُن کے سامنے ہم جہنم کو پیش کریں گے یعنی طرح طرح کے عذاب نازل کریں گے جو جہنم کا ےے ) نمونہ ہوں گے اور پھر فرمایا الَّذِينَ كَانَتْ أَعْيُنُهُ فِي غِطَاءِ عَنْ ذِكْرِى وَكَانُوا لَا يَسْتَطِيعُونَ سمعالے یعنی وہ ایسے لوگ ہوں گے کہ مسیح موعود کی دعوت اور تبلیغ سے اُن کی آنکھیں پردہ میں رہیں گی اور وہ اُس کی باتوں کو سن بھی نہیں سکیں گے اور سخت بیزار ہوں گے اس لئے عذاب نازل ہوگا۔ اس جگہ صور کے لفظ سے مراد مسیح موعود ہے کیونکہ خدا کے نبی اس کی طور ہوتے ہیں یعنی قرنا جن کے دلوں میں وہ اپنی آواز پھونکتا ہے۔ یہی محاورہ پہلی بقیه حاشیه : اس قدر لمبے بنائے ہیں کہ کسی کو ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں اور توالد تناسل بھی ان کا ۷۷ ایشیائی قوموں کی نسبت بہت ہی زیادہ ہے۔ پس جبکہ موجودہ واقعات نے دکھلا دیا ہے کہ ان احادیث کے یہ معنے ہیں اور عقل ان معنوں کو نہ صرف قبول کرتی ہے بلکہ ان سے لذت اٹھاتی ہے تو پھر کیا ضرورت ہے کہ خواہ نخواہ انسانی خلقت سے بڑھ کر ان میں وہ عجیب خلقت فرض کی جائے جو سراسر غیر معقول اور اس قانون قدرت کے برخلاف ہے جو قدیم سے انسانوں کے لئے چلا آتا ہے اور اگر کہو کہ یا جوج ماجوج جنات میں سے ہیں انسان نہیں ہیں تو یہ اور حماقت ہے کیونکہ اگر وہ جنات میں سے ہیں تو سید سکندری اُن کو کیونکر روک سکتی تھی جس حالت میں جنات آسمان تک پہنچ جاتے ہیں جیسا کہ آیت فَاتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ سے ظاہر ہوتا ہے تو کیا وہ سد سکندری کے اوپر چڑھ نہیں سکتے تھے جو آسمان کے قریب چلے جاتے ہیں اور اگر کہو کہ وہ درندوں کی قسم ہیں جو عقل و فہم نہیں رکھتے تو پھر قرآن شریف اور حدیثوں میں ان پر عذاب نازل کرنے کا کیوں وعدہ ہے کیونکہ عذاب گنہ کی پاداش میں ہوتا ہے اور نیز ان کا لڑائیاں کرنا اور سب پر غالب ہو جانا اور آخر کار آسمان کی طرف تیر چلانا صاف دلالت کرتا ہے کہ وہ ذوالعقول ہیں بلکہ دنیا کی عقل میں سب سے بڑھ کر ۔ حدیثوں میں بظاہر یہ تناقض پایا جاتا ہے کہ مسیح موعود کے مبعوث ہونے کے وقت ایک طرف تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ یاجوج ماجوج تمام دنیا میں پھیل جائیں گے اور دوسری طرف یہ بیان ہے الكهف : ١٠٢: الصفت ال