براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 69
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۶۹ نصرة الحق مال کی ضرورت ہوتی ہے۔ سو اس وحی الہی کے وقت تمام ملکیت ہماری تباہ ہو چکی تھی اور ایک (۵۴) بھی ایسا آدمی ساتھ نہ تھا جو مالی مدد کر سکتا۔ دوسرے میں کسی ایسے ممتاز خاندان میں سے نہیں تھا جو کسی پر میرا اثر پڑ سکتا۔ ہر ایک طرف سے بال و پر ٹوٹے ہوئے تھے پس جس قدر مجھے اس وحی الہی کے بعد سرگردانی ہوئی وہ میرے لئے ایک طبعی امر تھا اور میں اس بات کا محتاج تھا کہ میری زندگی کو قائم رکھنے کے لئے خدائے تعالیٰ عظیم الشان وعدوں سے مجھے تسلی دیتا تا میں غموں کے ہجوم سے ہلاک نہ ہو جاتا۔ پس میں کس منہ سے خدا وند کریم وقد مر کا شکر کروں کہ اُس نے ایسا ہی کیا۔ اور میری بے کسی اور نہایت بے قراری کے وقت میں مجھے مبشرانہ پیشگوئیوں کے ساتھ تھام لیا اور پھر بعد اس کے اپنے تمام وعدوں کو پورا کیا۔ اگر وہ خدائے تعالیٰ کی تائید میں اور نصرتیں بغیر سبقت پیشگوئیوں کے یونہی ظہور میں آتیں تو بخت اور اتفاق پر حمل کی جاتیں لیکن اب وہ ایسے خارقِ عادت نشان ہیں کہ اُن سے وہی انکار کرے گا جو شیطانی خصلت اپنے اندر رکھتا ہوگا۔ اور پھر اس کے بعد خدا نے اپنے اُن تمام وعدوں کو پورا کیا جو ایک زمانہ دراز پہلے پیشگوئی کے طور پر کئے تھے۔ اور طرح طرح کی تائیدیں اور طرح طرح کی نصرتیں کیں۔ اور جن مشکلات کے تصور سے قریب تھا کہ میری کمر ٹوٹ جائے اور جن غموں کی وجہ سے مجھے خوف تھا کہ میں ہلاک ہو جاؤں اُن تمام مشکلات اور تمام غموں کو دور فرمایا اور جیسا کہ وعدہ کیا تھا إلى جذع النخلة۔ قال ياليتني مت قبل هذا و كنت نسيا منسیا۔ مخاض سے مراد اس جگہ وہ امور ہیں جن سے خوفناک نتائج پیدا ہوتے ہیں اور جذع النخلة سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کی اولا دیگر صرف نام کے مسلمان ہیں۔ با محاورہ ترجمہ یہ ہے کہ دردانگیز دعوت جس کا نتیجہ قوم کا جانی دشمن ہو جانا تھا اس مامور کو قوم کے لوگوں کی طرف لائی جو کھجور کی خشک شاخ یا جڑ کی مانند ہیں۔ تب اُس نے خوف کھا کر کہا کہ کاش میں اس سے پہلے مرجاتا اور بھولا بسرا ہو جاتا ۔ منہ