براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 68
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۶۸ نُصرة الحق اُن کو قبول کر سکے اور قوم پر تو اس قدر بھی امید نہ تھی کہ وہ اس امر کو بھی تسلیم کر سکیں کہ بعد زمانہ نبوت وحی غیر تشریعی کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا اور قیامت تک باقی ہے بلکہ صریح معلوم ہوتا تھا کہ اُن کی طرف سے وحی کے دعوے پر تکفیر کا انعام ملے گا ۔ اور سب علماء متفق ہو کر در پے ایز او بیخ کنی ہو جائیں گے کیونکہ اُن کے نزدیک بعد سید نا جناب ختمی پناه رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم جی الہی پر قیامت تک مہر لگ گئی ہے اور بالکل غیرممکن ہے کہ اب کسی سے مکالمہ و مخاطبہ الہیہ ہو اور اب قیامت تک امت مرحومہ اس قسم کے رحم سے بے نصیب کی گئی ہے کہ خدائے تعالیٰ ان کو اپنا ہم کلام کر کے اُن کی معرفت میں ترقی بخشے اور براہ راست اپنی ہستی پر اُن کو مطلع فرمائے بلکہ وہ صرف تقلیدی طور پر گلے پڑا ڈھول بجا رہے ہیں۔ اور شہودی طور پر ایک ذرہ معرفت اُن کو حاصل نہیں۔ ہاں اس قدر محض لفو طریق پر بعض کا اُن میں سے اعتقاد ہے کہ الہام تو نیک بندوں کو ہوتا ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ وہ الہام رحمانی ہے یا شیطانی ہے لیکن ظاہر ہے کہ ایسا الہام جو شیطان کی طرف بھی منسوب ہو سکتا ہے خدا کے ان انعامات میں شمار نہیں ہو سکتا جو انسان کے ایمان کو مفید ہو سکتے ہیں بلکہ مشتبہ ہونا اور شیطانی کلام سے مشابہ ہونا اُس کے ساتھ ایک ایسا لعنت کا داغ ہے جو جہنم تک پہنچا سکتا ہے۔ اور اگر خدا نے کسی بندہ کے لئے صراط الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی دُعا قبول کی ہے اور اُس کو تضمین میں داخل فرمایا ہے تو ضرور اپنے وعدہ کے مطابق اس روحانی انعام سے حصہ دیا ہے جو یقینی طور پر مکالمہ مخاطبہ الہیہ ہے۔ غرض یہ ہی وہ امر تھا کہ اس اندھی دنیا میں قوم کے لئے ایک جوش اور غضب دکھلانے کا محل تھا۔ پس میرے جیسے بیکس تنہا کے لئے ان تمام امور کا جمع ہونا بظاہر نا کامی کی ایک علامت تھی بلکہ ایک سخت ناکامی کا سامنا تھا کیونکہ کوئی پہلو بھی درست نہ تھا ۔ اوّل میری دعوت کی مشکلات میں سے ایک رسالت اور وحی الہی اور مسیح موعود ہونے کا دعوی تھا اسی کی نسبت میری گھبراہٹ ظاہر کرنے کے لئے یہ الہام ہوا تھا۔ فــــاجــــاء الــمــخــــاض