براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 64
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۶۴ نصرة الحق ہمارے اس قدر بیان سے ثابت ہو گیا کہ سچاند ہب ضرور اس بات کا حاجت مند ہے کہ اُس میں کوئی ایسی معجزانہ خاصیت ہو کہ جو دوسرے مذہب میں وہ نہ پائی جائے اور سچا راستباز ضرور اس بات کا حاجتمند ہے کہ کچھ ایسی معجزانہ تائیدات الہیہ اُس کے شامل حال ہوں کہ جن کی نظیر غیروں میں ہرگز نہ مل سکے تا انسان ضعیف البنیان جواد نی ادنی شبہ سے ٹھو کر کھاتا ہے دولت قبول سے محروم نہ رہے۔ سوچ کر دیکھو کہ جس حالت میں انسانوں کی غفلت اور وہم پرستی کی یہ حالت ہے کہ باوجود یکہ خدا کے بچے مامورین سے صد ہانشان ظاہر ہوتے ہیں اور ہر ایک پہلو سے خدا اُن کی مددفرماتا ہے پھر بھی وہ اپنی بدبختی سے شبہات میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ہزار ہانشانوں سے کچھ بھی فائدہ نہ اٹھا کر طرح طرح کی بدگمانیوں میں پڑ جاتے ہیں تو پھر اس صورت میں ان کا کیا حال ہوتا کہ ایک مامور من اللہ کیلئے آسمان سے کوئی امتیازی نشان نہ ملتا اور صرف خشک زہد اور ظاہری عبادت کے دکھلانے پر مدار ہوتا اور اس طرح بدگمانیوں کا دروازہ بھی کھلا ہوتا۔ پس خدا جو کریم و رحیم ہے اُس نے نہ چاہا کہ اس کے ایک مقبول مذہب یا ایک مقبول بندہ سے انکار کر کے دنیا میں ہلاک ہو جائے۔ پس اُس نے سچے مذہب پر دائمی نشانوں کی مہر لگادی اور بچے راستباز کو اپنے خارق عادت کاموں کے ساتھ قبولیت کا نشان عطا فرمایا۔ سچ تو یہ ہے کہ خدا نے مقبول مذہب اور مقبول بندہ کو امتیازی نشان عطا کرنے میں کوئی بھی کسر اٹھا نہیں رکھی ۔ اور سورج سے زیادہ اُن کو چمکا کر دکھلا دیا اور وہ کام اُن کی تائید میں دکھلائے کہ جن کی نظیر دنیا میں دیکھنے سننے میں نہیں آتی ۔ خدا بر حق ہے لیکن اُس کا چہرہ دیکھنے کا آئینہ وہ منہ ہیں جن پر اس کے عشق کی بارشیں ہوئیں جن کے ساتھ خدا ایسا ہمکلام ہوا کہ جیسے ایک دوست دوست سے ۔ وہ غلبہ محبت سے دوئی کے نقش کو مٹا کر توحید کی کامل حقیقت تک پہنچے کیونکہ تو حید صرف یہی نہیں ہے کہ الگ رہ کر خدا کو ایک جاننا۔ اس تو حید کا تو شیطان بھی قائل ہے بلکہ ساتھ اس کے یہ بھی ضروری ہے کہ عملی رنگ میں یعنی محبت کے کامل جوش سے اپنی ہستی کو محو کر کے خدا کی وحدت کو اپنے پر وارد کر لینا یہی