براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 63 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 63

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۶۳ نصرة الحق بعض جاہل اس سے دھو کہ بھی کھا لیتے ہیں لیکن حکیم مطلق نے سونے میں ایک امتیازی نشان رکھا ہے جس کو صراف فی الفور شناخت کر لیتے ہیں۔ اور بہتیرے سفید اور چمکتے ہوئے پتھر ایسے ہیں جو کہ ہیرے سے بہت ہی مشابہ ہیں اور بعض نادان اُن کو ہیرا سمجھ کر ہزار ہا روپیہ کا نقصان اٹھا لیتے ہیں لیکن صانع عالم نے ہیرے کیلئے ایک امتیازی نشان رکھا ہوا ہے جس کو ایک دانشمند جو ہری شناخت کر سکتا ہے۔ ایسا ہی دنیا کے کل جواہرات اور عمدہ چیز وں کو دیکھ لو کہ اگر چہ بظاہر نظر کئی رڈی اور ادنی درجہ کی چیزیں اُن سے شکل میں مل جاتی ہیں مگر ہر ایک پاک اور قابل قدر جو ہر اپنے امتیازی نشان سے اپنی خصوصیت کو ظاہر کر دیتا ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا۔ اور خود انسان کو دیکھو کہ اگر چہ وہ صورت میں بہت سے حیوانات سے مشابہت رکھتا ہے جیسا کہ بندر سے تا ہم اُس میں ایک امتیازی نشان ہے جس کی وجہ سے ہم کسی بندر کو انسان نہیں کہہ سکتے ۔ پھر جب کہ اس مادی دنیا میں جو نا پائدار اور بے ثبات ہے اور جس کا نقصان بھی بمقابل آخرت کے کچھ چیز نہیں ہے ہر ایک عمدہ اور نفیس جو ہر کیلئے حکیم مطلق نے امتیازی نشان قائم کر دیا ہے جس کی وجہ سے وہ جو ہر بسہولت شناخت کیا جاتا ہے تو پھر مذہب جس کی غلطی جہنم تک پہنچاتی ہے اور ایسا ہی ایک راستباز اور اہل اللہ کا وجود جس کا انکار شقاوت ابدی کے گڑھے میں ڈالتا ہے کیونکر یقین کیا جائے کہ اُن کی شناخت کے لئے کوئی بھی یقینی اور قطعی نشان نہیں ۔ پس ایسے شخص سے زیادہ کون احمق اور نادان ہے کہ جو خیال کرتا ہے کہ بچے مذہب اور کچے راستباز کیلئے کوئی امتیازی نشان خدا نے قائم نہیں کیا۔ حالانکہ خدائے تعالیٰ قرآن شریف میں آپ فرماتا ہے کہ کتاب اللہ جو مذہب کی بنیاد ہے امتیازی نشان اپنے اندر رکھتی ہے جس کی نظیر کوئی پیش نہیں کر سکتا اور نیز فرماتا ہے کہ ہر ایک مومن کو فرقان عطا ہوتا ہے یعنی امتیازی نشان جس سے وہ شناخت کیا (۵۰) جاتا ہے۔ پس یقیناً سمجھو کہ سچامذہب اور حقیقی راستباز ضرور اپنے ساتھ امتیازی نشان رکھتا ہے اور اسی کا نام دوسرے لفظوں میں معجزہ اور کرامت اور خارق عادت امر ہے۔