براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 62

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۶۲ نصرة الحق تسلی کیونکر ہو کہ فی الحقیقت ایسا ہی امر واقع ہے۔ اگر کسی میں مادہ سخاوت ہے تو ناموری کی غرض سے بھی ہوسکتا ہے۔ اگر کوئی عابد زاہد ہے تو ریا کاری بھی اس کا موجب ہوسکتی ہے۔ اور اگر فسق و فجور سے کوئی بچ گیا ہے تو تهیدستی بھی اس کا باعث ہو سکتی ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ محض لوگوں کے لعن طعن کے خوف سے کوئی پارسا طبع بن بیٹھے اور عظمت الہی کا کچھ بھی اس کے دل پر اثر نہ ہو۔ پس ظاہر ہے کہ عمدہ چال چلن اگر ہو بھی تاہم حقیقی پاکیزگی پر کامل ثبوت نہیں ہوسکتا شاید در پردہ کوئی اور اعمال ہوں۔ لہذا حقیقی راستبازی کیلئے خدائے تعالی کی شہادت ضروری ہے جو عالم الغیب ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو دنیا میں پاک نا پاک کے حالات مشتبہ ہو جاتے ہیں اور امان اُٹھ جاتا ہے اس لئے ما بہ الامتیاز کی نہایت درجہ ضرورت ہے۔ اور جس مذہب نے راستباز کیلئے کوئی مابہ الامتیاز کا خلعت عطا نہیں فرمایا یقیناً سمجھو کہ وہ مذہب ٹھیک نہیں ہے اور نور سے بالکل خالی ہے۔ خدا کی طرف سے جو کتاب ہو وہ آپ بھی اپنے اندر ما بہ الامتیاز رکھتی ہے اور اپنے پیرو کو بھی امتیازی نشان بخشتی ہے۔ غرض بغیر امتیازی نشان کے نہ مذہب حق اور مذہب باطل میں کوئی کھلا کھلا تفرقہ پیدا ہوسکتا ہے اور نہ ایک راستباز اور مکار کے درمیان کوئی فرق بین ظاہر ہو سکتا ہے کیونکہ ممکن (۴۹) ہے کہ ایک شخص دراصل بدچلن اور فاسق اور فاجر ہو لیکن اُس کی بد چلنیاں ظاہر نہ ہوں ۔ پس اگر ایسی صورت میں وہ بھی راستبازی کا دعوی کرے جیسا کہ ایسے دعوے ہمیشہ دنیا میں پائے جاتے ہیں تو پھر خدائے تعالیٰ کی طرف سے حقیقی راستباز کے لئے کونسا ایک چمکتا ہوا نشان ہے جس سے وہ ایسے مکاروں سے الگ کا الگ دکھائی دے اور روز روشن کی طرح شناخت کر لیا جائے۔ حالانکہ قدیم سے اور جب سے کہ دنیا کی بنیاد ڈالی گئی ہے سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے اور یہی قانونِ قدرت ہے کہ تمام عمدہ اور خراب چیزوں میں ایک امتیازی نشان رکھا گیا ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ بظاہر سونا اور پیتل ہم شکل ہیں یہاں تک کہ