براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 57 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 57

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۵۷ نُصرة الحق اور حضرت عیسی علیہ السلام تو عجیب طور پر جاہلوں کا نشانہ ہوئے ہیں۔ اُن کی زندگی کے زمانہ میں تو یہود بے دین نے اُن کا نام کافر اور کذاب اور مکار اور مفتری رکھا اور اُن کے رفع روحانی سے انکار کیا۔ اور پھر جب وہ فوت ہو گئے تو اُن لوگوں نے جن پر انسان پرستی کی سیرت غالب تھی اُن کو خدا بنادیا اور یہودی تو رفع روحانی سے ہی انکار کرتے تھے۔ اب بمقابل اُن کے رفع جسمانی کا اعتقاد ہوا اور یہ بات مشہور کی گئی کہ وہ مع جسم آسمان پر چڑھ گئے ہیں گویا پہلے نبی تو روحانی طور پر بعد موت آسمان پر چڑھتے تھے مگر حضرت عیسی زندہ ہونے کی حالت میں ہی مع جسم مع لباس مع تمام لوازم جسمانی کے آسمان پر جا بیٹھے۔ گویا یہ یہودیوں کی ضد اور انکار کا جو رفع روحانی سے منکر تھے نہایت مبالغہ کے ساتھ ایک جواب تراشا گیا اور یہ جواب سراسر نا معقول تھا کیونکہ یہودیوں کو رفع جسمانی سے کچھ غرض نہ تھی۔ اُن کی شریعت کا یہ مسئلہ تھا کہ جو لوگ صلیب پر مرتے ہیں وہ لعنتی اور کافر اور بے ایمان ہوتے ہیں ۔ اُن کا رفع روحانی خدائے تعالیٰ کی طرف نہیں ہوتا اور یہودیوں کا عقیدہ تھا کہ ہر ایک مومن جب مرتا ہے تو (۲۵) اُس کی روح کو فرشتے آسمان کی طرف لے جاتے ہیں اور اُس کیلئے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں لیکن کافر کی روح آسمان کی طرف اٹھائی نہیں جاتی۔ اور کا فر ملعون ہوتا ہے اُس کی روح نیچے کو جاتی ہے۔ اور وہ لوگ باعث صلیب پانے حضرت عیسی اور نیز بوجہ بعض اختلافات کے اپنے فتووں میں حضرت عیسی علیہ السلام کو کافر ٹھہرا چکے تھے۔ کیونکہ بزعم اُن کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بذریعہ صلیب قتل ہو گئے تھے۔ اور توریت میں یہ صاف حکم تھا کہ جو شخص بذریعہ صلیب مارا جائے وہ لعنتی ہوتا ہے پس ان وجوہ سے انہوں نے حضرت عیسیٰ کو کا فر ٹھہرایا تھا اور اُن کے رفع روحانی سے منکر ہو گئے تھے۔ پس یہودیوں کے نزدیک یہ منصوبہ بنسی کے قابل تھا کہ گویا حضرت مسیح مع جسم آسمان پر چلے گئے ۔ اور درحقیقت یہ افترا ان لوگوں نے کیا تھا جو توریت کے علم سے ناواقف تھے اور خود فی نفسہ یہ خیال نہایت درجہ پر لغو تھا جس سے