براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 56
روحانی خزائن جلد ۲۱ نصرة الحق اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے عہد میں یہی معنے آیت مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ کے کئے گئے ۔ یعنی سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔ پس کیا حضرت عیسی رسول نہیں تھے جو فوت سے باہر رہ گئے ۔ پھر باوجود اس اجماع کے فیج اعوج کے زمانہ کی تقلید کرنا دیانت سے بعید ہے۔ امام مالک کا بھی یہی مذہب تھا کہ حضرت عیسی فوت ہو گئے ہیں۔ پس جبکہ سلف الائمہ کا یہ مذہب ہے تو دوسروں کا بھی یہی مذہب ہوگا۔ اور جن بزرگوں نے اس حقیقت کے سمجھنے میں خطا کی وہ خطا خدا تعالیٰ کے نزدیک در گذر کے لائق ہے۔ اس دین میں بہت سے اسرار ایسے تھے کہ درمیانی زمانہ میں پوشیدہ ہو گئے تھے مگر مسیح موعود کے وقت میں ان غلطیوں کا کھل جانا ضروری تھا کیونکہ وہ گم ہو کر آیا۔ اگر درمیانی زمانہ میں یہ غلطیاں نہ پڑتیں تو پھر مسیح موعود کا آنا فضول اور انتظار کرنا بھی فضول تھا، کیونکہ مسیح موعود مجدد ہے اور مسجد دغلطیوں کی اصلاح کے لئے ہی آیا کرتے ہیں۔ وہ جس کا نام جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم رکھا ہے وہ کس بات کا حکم ہے اگر کوئی اصلاح اس کے ہاتھ سے نہ ہو ۔ یہی سچ ہے مبارک وہ جو قبول کریں اور خدا سے ڈریں۔ اب پھر ہم اپنے پہلے مضمون کی طرف رجوع کر کے کہتے ہیں کہ معجزات اور کرامات جو عوام الناس نے حضرت عیسی کی طرف منسوب کئے ہیں وہ سنت اللہ سے سراسر بر خلاف ہیں ۔ اور جیسے ایک فریق نے سرے سے انکار معجزات کا کر کے اپنے تئیں تفریط کی حد تک پہنچا دیا ہے ایسا ہی اُن کے مقابل پر دوسرے فریق نے معجزات کے بارے میں سخت غلو کر کے اپنی بات کو افراط کی حد تک پہنچا دیا ہے اور درمیانی راہ کو دونوں فریق نے ترک کر دیا ہے ظاہر ہے کہ اگر معجزات نہ ہوں تو پھر خدائے تعالی کے وجود پر کوئی قطعی اور یقینی علامت باقی نہیں رہتی اور اگر معجزات اس رنگ کے ہوں جس کا ابھی بیان کیا گیا ہے تو پھر ایمان کے ثمرات مفقود ہو جاتے ہیں اور ایمان ایمان نہیں رہتا۔ اور شرک تک نوبت پہنچتی ہے ال عمران : ۱۴۵