براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 55
روحانی خزائن جلد ۲۱ نصرة الحق اس خیال کا بطلان اس طرح پر ہوتا ہے کہ اوّل تو قرآن شریف میں کہیں نہیں لکھا کہ حضرت عیسی کو مع جسم عصری دوسرے آسمان پر بٹھایا گیا بلکہ قرآن شریف کے لفظ تو یہ ہیں کہ بَلْ زَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ یا یعنی خدا نے عیسی کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ پس سوچو کہ کیا خدا دوسرے آسمان پر مجسم چیزوں کی طرح بیٹھا ہوا ہے؟ اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف رفع ہمیشہ روحانی ہی ہوتا ہے۔ اور ایسا ہی تمام نبیوں کی تعلیم ہے خدا جسم نہیں ہے کہ تا جسمانی رفع اُس کی طرف ہو۔ تمام قرآن شریف میں یہی محاورہ ہے کہ جب کسی کی نسبت فرمایا جاتا ہے کہ خدا کی طرف وہ گیا یا خدا کی طرف اس کا رفع ہوا تو اس کے یہی معنے ہوتے ہیں کہ روحانی طور پر اس کا رفع ہوا جیسا کہ اس آیت میں بھی یہی معنے ہیں جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يَايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَجِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ الخ کہ اے نفس مطمئنہ اپنے رب کی طرف واپس آجا۔ پس کیا اس کے یہ معنے ہیں کہ مع جسم عصری آجا۔ ماسوا اس کے اس جگہ یہ سوال ہوگا کہ اگر اس جگہ رفع روحانی کا بیان نہیں ہے اور اس جگہ وہ جھگڑا فیصلہ نہیں کیا گیا جو یہود نے حضرت مسیح کے رفع روحانی کی نسبت انکار کیا تھا اور نعوذ باللہ ملعون قرار دیا تھا تو پھر قرآن شریف کے کس مقام میں یہود کے اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے جس کا جواب دینا بموجب وعدہ الہی کے ضروری تھا۔ پس اس تمام بیان سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسی کے رفع کو رفع جسمانی ٹھہرانا سراسر ہٹ دھرمی اور حماقت ہے بلکہ یہ وہی رفع ہے جو ہر ایک مومن کے لئے وعدہ الہی کے موافق موت کے بعد ہونا ضروری ہے اور کافر کے لئے حکم ہے کہ لا تُفتح لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ یعنی اُن کیلئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے یعنی اُن کا رفع نہیں ہوگا جیسا کہ دوسری جگہ فرماتا ہے مُفَتَحَةً لَّهُمُ الْأَبْوَابُ " پس سیدھی بات کو الٹا دینا تقویٰ اور طہارت کے برخلاف اور ایک طور سے تحریف کلام الہی ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے وقت میں تمام صحابہ کا اجماع ہو چکا ہے کہ تمام نبی فوت ہو چکے ہیں۔ النساء : ۱۵۹ الفجر : ۲۹،۲۸ الاعراف: ۴۱ ص: ۵۱