براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 54 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 54

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۵۴ نصرة الحق نہیں ہوا۔ اور بموجب ان کے عقیدہ کے حضرت عیسی ملعون ہونے کی حالت میں تحت الثریٰ میں گئے اور ساتھ کوئی جسم نہ تھا۔ پھر مرفوع ہونے کی حالت میں کیوں جسم کی ضرورت ہوئی۔ دونوں حالتیں ایک ہی رنگ کی ہونی چاہیں ۔ یہ ہماری طرف سے عیسائیوں پر الزام ہے کہ وہ بھی رفع کے بارے میں غلطی میں پھنس گئے۔ وہ اب تک اس بات کے اقراری ہیں کہ صلیب کا نتیجہ توریت کی رو سے ایک روحانی امر تھا یعنی لعنتی ہونا جس کو دوسرے لفظوں میں عدم رفع کہتے ہیں پس ہمو جب اُن کے عقیدہ کے عدم رفع روحانی طور پر ہی ہوا۔ اس حالت میں رفع بھی روحانی ہونا چاہیے تھا تا تقابل قائم رہے۔ عیسائی صاحبان مانتے ہیں کہ حضرت عیسی ملعون ہونے کی حالت میں صرف روحانی طور پر تحت الثرمی اور دوزخ کی طرف گئے اُس وقت اُن کے ساتھ کوئی جسم نہ تھا۔ پھر جبکہ یہ حالت ہے تو پھر مرفوع ہونے کی حالت میں کیوں جسم کی ضرورت پڑی اور کیوں جسم کو ساتھ ملایا گیا۔ حالانکہ قدیم سے توریت کے ماننے والے تمام نبی اور تمام یہود کے فقیہ مصلیبی لعنت کے یہی معنے کرتے آئے ہیں کہ روحانی طور پر رفع نہ ہو۔ اور اب بھی یہی کرتے ہیں کہ جو شخص صلیب کے ذریعہ سے مارا جائے اُس کا خدا تعالی کی طرف رفع نہیں ہوتا۔ لعنت کے معنے عدم رفع ہے۔ بہر حال جبکہ خدا تعالیٰ نے یہود کا اعتراض دور کرنا تھا اور یہود اب تک عدم رفع سے مراد رُوحانی معنے لیتے ہیں یعنی یہ کہتے ہیں که روحانی طور پر عیسی کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوا۔ اور وہ کا ذب تھا تو پھر خدا تعالیٰ اصل بات کو چھوڑ کر اور طرف کیوں چلا گیا۔ گویا نعوذ باللہ خدا تعالیٰ نے یہود کا اصل جھگڑا ۲۳ سمجھا ہی نہیں اور ایسے حج کی طرح فیصلہ کیا جو سراسر روئداد مثل کے برخلاف فیصلہ لکھ مارتا ہے۔ ایسا گمان اگر عمد أخدا تعالی کی نسبت کیا جائے تو پھر کفر میں کیا شک ہے۔ پھر ماسوا اس کے ہم کہتے ہیں کہ اگر مان بھی لیا جائے کہ خدائے تعالیٰ نے یہود کے اصل جھگڑے کی اس جگہ پر دانہ رکھ کر ایک نئی بات بیان کر دی ہے جس کا بیان کرنا محض ایک فضول اور غیر ضروری امر تھا یعنی یہ کہ حضرت عیسی کو مع جسم عنصری دوسرے آسمان پر بٹھایا گیا تو پھر