براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 50
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۵۰ نصرة الحق اب جس حالت میں ایسی مشہور شدہ کرامات کو قبول نہیں کیا گیا جن کے قبول کرنے میں چنداں حرج نہ تھا تو پھر کیوں ایسے شخص کی طرف وہ باتیں منسوب کی جاتی ہیں جو نہ صرف قرآن شریف کی منشاء کے برخلاف ہیں بلکہ عیسی پرستی کے شرک کو اُس سے مدد ملتی ہے جس نے چالیس کروڑ انسانوں کو خدائے تعالیٰ کی توحید سے محروم کر دیا ہے میں نہیں سمجھ سکتا کہ حضرت عیسی بن مریم کو اور نبیوں پر کیا زیادتی اور کیا خصوصیت ہے۔ پھر اُس کو ایک خصوصیت دینا جو شرک کی جڑ ہے کس قدر کھلی کھلی ضلالت ہے جس سے ایک بڑی قوم تباہ ہو چکی ہے ہائے افسوس کہ انہوں نے محض مصنوعی کفارہ پر بھروسہ کر کے اپنے تئیں ہلاک کیا اور یہ خیال نہ کیا کہ نفس کے آتشی دریا سے وہی پار ہو گا جو اپنی کشتی اپنے ہاتھ سے بنائے گا اور وہی مزدوری لے گا جو اپنا کام آپ کرے گا اور وہی نقصان سے بچے گا جو اپنا بوجھ آپ اُٹھائے گا یہ کیسی جہالت ہے جو ایک انسان بے دست و پا ہو کر دوسرے انسان پر اپنی کامیابی کیلئے بھروسہ کرے اور کسی کی جسمانی قوت کو اپنی روحانی زندگی کیلئے مفید سمجھے۔ خدا کا قانون ہے کہ اُس نے کسی انسان کو کسی امر میں خصوصیت نہیں دی اور کوئی انسان نہیں کہہ سکتا کہ مجھ میں ایک ایسی بات ہے جو دوسرے انسانوں میں نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو ایسے انسان کو واقعی طور پر معبود ٹھہرانے کیلئے بنیاد پڑ جاتی ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بعض عیسائیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی یہ خصوصیت پیش کی تھی کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں تو فی الفور اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کی اس آیت میں جواب دیا۔ اِنَّ مَثَلَ عِیسٰى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ أَدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ یا یعنی عیسی کی مثال آدم کی مثال ہے خدا نے اس کو مٹی سے پیدا کیا پھر اس کو کہا کہ ہو جا۔ سو وہ ہو گیا ایسا ہی عیسی بن مریم ، مریم کے خون سے اور مریم کی منی سے (۲۰) پیدا ہوا اور پھر خدا نے کہا کہ ہو جا سو ہو گیا۔ پس اتنی بات میں کون سی خدائی اور کون سی خصوصیت اس میں پیدا ہوگئی۔ موسم برسات میں ہزار ہا کیڑے مکوڑے بغیر ماں اور باپ کے خود بخود زمین سے آل عمران : ۲۰