براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 49
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۴۹ نصرة الحق معجزہ کے نفس امر میں شک نہیں مگر وہ اسی قدر ہوتا ہے جیسا کہ آگے ہم تفصیل سے بیان کریں گے۔ اس جگہ مسلمانوں پر نہایت افسوس ہے کہ وہ حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف ایسے معجزات منسوب کرتے ہیں جو قرآن شریف کی بیان کردہ سنت کے مخالف ہیں۔ اور وہ راہ چلتے ہیں جس کا آگے کو چہ ہی بند ہے۔ اور نہ صرف اسی قدر کہ حضرت عیسی کی نسبت عیسائیوں کی پرانی کہانیوں پر ایمان لائے ہوئے ہیں بلکہ آئندہ کیلئے تمام دنیا سے الگ کسی وقت آسمان سے اُن کا نازل ہونا مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آئندہ آخری زمانہ میں (حالانکہ عمر دنیا کے رو سے جو سات ہزار ہے یہی آخری زمانہ ہے ) حضرت عیسیٰ آسمان سے فرشتوں کے ساتھ نازل ہوں گے اور ایک بڑا تماشا ہوگا اور لاکھوں آدمیوں کا ہجوم ہوگا اور آسمان کی طرف نظر ہوگی اور لوگ دور سے دیکھ کر کہیں گے کہ وہ آئے وہ آئے۔ اور دمشق میں ایک سفید مینار کے قریب اُتریں گے مگر تعجب کہ وہ غریب اور عاجز انسان جو اپنی نبوت ثابت کرنے کیلئے الیاس نبی کو دوبارہ دنیا میں نہ لاسکا یہاں تک کہ صلیب پر لٹکایا گیا۔ اُس کی نسبت ایسے ایسے کرشمے بیان کئے جاتے ہیں۔ اگر یہ باتیں قبول کے لائق ہیں تو پھر کیوں حضرت سید عبدالقادر جیلانی کی یہ کرامت جو لوگوں میں بہت مشہور ہو رہی ہے قبول نہیں کی جاتی کہ ایک کشتی جو مع برات ۔ دریا میں ڈوب گئی تھی انہوں نے بارہ برس کے بعد نکالی تھی اور سب لوگ زندہ تھے اور نقارے اور باجے اُن کے ساتھ بج رہے تھے۔ ایسا ہی یہ دوسری کرامت کہ ایک مرتبہ فرشتہ ملک الموت (۳۹) ان کے کسی مرید کی روح بغیر اجازت نکال کر لے گیا تھا انہوں نے اڑ کر آسمان پر اس کو جا پکڑا اور اُس کی ٹانگ پر لاٹھی ماری اور ہڈی توڑ دی اور اُس روز کی جس قدر روحیں نکالی گئی تھیں سب چھوڑ دیں اور وہ دوبارہ زندہ ہو گئیں۔ فرشتہ روتا ہوا خدا تعالیٰ کے پاس گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عبد القادر محبوبیت کے مقام میں ہے اس کے کام کی نسبت کوئی دست اندازی نہیں ہوگی اگر وہ تمام گذشتہ مُردے زندہ کر دیتا تب بھی اُس کا اختیار تھا۔