براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 41 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 41

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۴۱ نصرة الحق قبروں سے بولتے ہوئے اور چیختے ہوئے نکلیں اور اپنے بیٹوں کو لعنت کریں اور نفرین کر کے کہیں کہ یہ تو حقیقت میں سچا خدا کا رسول تھا یہ غضب تم نے کیا کیا کہ اُس کے منکر ہو گئے ۔ ہم بچشم خود دیکھ آئے ہیں کہ اس پر ایمان لانے والا سیدھا بہشت کی طرف جاتا ہے اور اس سے منکر رہنے والا نہایت ذلیل حالت میں دوزخ میں ڈالا جاتا ہے اور شہر میں جلسے کریں اور تمام منکروں کو اُن جلسوں میں بلائیں اور اپنی اولاد کو کہیں کہ تم جانتے ہو کہ ہم تمہارے باپ دادا ہیں اور تم جانتے ہو کہ ہم کس قدر اس شخص کے دشمن تھے لیکن جب ہم مر گئے تو اس کی دشمنی کی وجہ سے ہم دوزخ میں ڈالے گئے ۔ دیکھو ہمارے بدن آگ میں جھلسے ہوئے اور سیاہ ہور ہے ہیں اور تمہارے روبرو ہم قبروں میں سے نکلے ہیں تا ہم گواہی دیں کہ یہ شخص خدا کی طرف سے اور سچا نبی ہے۔ یاد رکھو کہ ایسے لیکچر کبھی مردوں نے قبروں میں سے نکل کر نہیں دیئے۔ اور کبھی اور کسی زمانہ میں ایسے جلسے نہیں ہوئے کہ چند لوگوں کے باپ دادا قبروں میں سے زندہ ہو کر نکل آئے ہوں۔ تب ایک مکان جلسہ کا مقرر ہو کر تمام شہر کے لوگ اُن مردوں کے سامنے بلائے گئے ہوں اور اُن مُردوں نے ہزاروں لوگوں کے روبرو کھڑے ہو کر بلند آواز سے یہ لیکچر دیئے ہوں کہ اے حاضرین! ہم آپ کا شکر کرتے ہیں کہ آپ ہمارا لیکچر سننے کے لئے آئے۔ آپ صاحبان جانتے ہیں اور ہمیں خوب پہچانتے ہیں کہ ہم فلاں فلاں محلہ کے رہنے والے اور فلاں فلاں شخص کے دادا پڑدادا ہیں اور چند سال ہوئے کہ ہم طاعون سے یا ہیضہ سے یا کسی اور بیماری سے فوت ہو گئے تھے اور آپ لوگ ہمارے جنازہ میں شریک تھے اور آپ لوگوں نے ہی ہمیں دفن کیا تھایا پھونک دیا تھا پھر بعد اس کے آپ صاحبوں نے اس بزرگ نبی کو جو ہمارے سامنے صدرنشینی کی کرسی کو زیب دے رہا ہے نہایت تحقیر سے رڈ کیا اور اس کو جھوٹا خیال کیا اور اس سے چاہا کہ معجزہ کے طور پر چند مردے زندہ ہوں تب اس کی دعا سے ہم زندہ ہو گئے جو اس وقت آپ صاحبوں کے سامنے کھڑے ہیں۔ صاحبان آنکھ کھول کر دیکھ لو کہ ہم وہی ہیں اور ہم سے ہمارے