براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 37 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 37

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۷ نُصرة الحق ہاں یہ دروازہ بہت تنگ ہے اور اس کے اندر داخل ہونے والے بہت تھوڑے ہیں کیونکہ اس دروازہ کی دہلیز موت ہے اور خدا کو دیکھ کر اُس کی راہ میں اپنی ساری قوت اور سارے وجود سے کھڑے ہو جانا اُس کی چوکھٹ ہے۔ پس بہت ہی تھوڑے ہیں جو اس دروازے میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ افسوس کہ ہمارے ملک میں عیسائی صاحبوں کو تو حضرت مسیح کے خون کے خیال نے اس دروازہ سے ڈور ڈال دیا اور آریہ صاحبوں کو تاریخ کے خیال اور توبہ نہ قبول ہونے کے عقیدہ نے اس دروازہ سے محروم کر دیا کیونکہ اُن کے نزدیک گناہ کے بعد بجر طرح طرح کے جونوں میں پڑنے کے اسی زندگی میں اور کوئی طریق پاک ہونے کا نہیں اور تو بہ یعنی خدا تعالیٰ کی طرف ایک موت کی حالت بنا کر پُر صدق دل سے رجوع کرنا اور موت کی سی حالت بنا کر اپنی قربانی آپ ادا کرنا اُن کے نزدیک ایک لغو خیال ہے۔ پس یہ دونوں فریق اس حقیقی راہ سے محروم ہیں۔ آریہ صاحبوں کے لئے اور بھی مشکلات ہیں کہ اُن کے لئے خدائے تعالیٰ پر یقین کرنے کی کوئی بھی راہ کھلی نہیں ۔ نہ معقولی نہ سماوی ۔ معقولی اس لئے نہیں کہ اُن کے خیال کے مطابق ارواح مع اپنی تمام طاقتوں کے خود بخود ہیں اور پر کرتی یعنی اجزاء عالم مع اپنے تمام گنوں کے خود بخود ہیں تو پھر پر میشر کے وجود پر کونسی عقلی دلیل رہی کیونکہ اگر سب کچھ خود بخود ہے تو پھر کیا وجہ کہ ان چیزوں کا جوڑ خود بخود نہیں ۔ سو یہ مذہب دہر یہ مذہب سے بہت نزدیک ہے اور اگر خدا نے ان لوگوں کو اس غلط راہ سے تو بہ نصیب نہ کی تو کسی دن سب و ہر یہ ہو جائیں گے۔ اسی طرح سماوی طریق سے بھی خدا تعالیٰ کی شناخت سے بے نصیب ہیں کیونکہ سماوی طریق سے مراد آسمانی نشان ہیں جو خدائے تعالیٰ کے وجود پر ۲۸ تازہ بتازہ نشان ہوتے ہیں جن کو زندہ خدا پر ایمان لانے والا آدمی مشاہدہ کرتا رہتا ہے اور یقینی طور پر اُس کا تصرف ہر ایک چیز پر دیکھتا ہے۔ سو یہ لوگ ان نشانوں سے قطعاً منکر ہیں لہذا خدا شناسی کے دونوں دروازے ان لوگوں پر بند ہیں ۔ ہاں محض تعصب کے طور پر