براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 22

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۲ نصرة الحق اے قوم کے سرآمدہ اے حامیان دیں سوچو کہ کیوں خدا تمہیں دیتا مدد نہیں تم میں نہ رحم ہے نہ عدالت نہ انتقال پس اس سبب سے ساتھ تمہارے نہیں خدا ہوگا تمہیں کلارک کا بھی وقت خوب یاد جب مجھ پر کی تھی تہمت خوں از رو فساد جب آپ لوگ اُس سے ملے تھے بدیں خیال تا آپ کی مدد سے اُسے سہل ہو جدال پر وہ خدا جو عاجز و مسکیں کا ہے خدا حاکم کے دل کو میری طرف اُس نے کر دیا (۱۳) تم نے تو مجھے کو قتل کرانے کی ٹھانی تھی یہ بات اپنے دل میں بہت سہل جانی تھی تھے چاہتے صلیب پر یہ شخص کھینچا جائے تا ئم کو ایک فخر سے یہ بات ہاتھ آئے جھوٹا تھا مفتری تھا تبھی یہ ملی سزا آخر مری مدد کیلئے خود اُٹھا خدا ڈگلس یہ سارا حال بریت کا کھل گیا عزت کے ساتھ تب میں وہاں سے بری ہوا الزام مجھ پہ قتل کا تھا سخت تھا یہ کام تھا ایک پادری کی طرف سے یہ اتہام جتنے گواہ تھے وہ تھے سب میرے برخلاف اک مولوی بھی تھا جو یہی مارتا تھا لاف دیکھو یہ شخص اب تو سزا اپنی پائے گا اب بن سزائے سخت یہ بیچ کر نہ جائے گا اتنی شہادتیں ہیں کہ اب کھل گیا قصور اب قید یا صلیب ہے اک بات ہے ضرور بعضوں کو بددعا میں بھی تھا ایک انہماک اتنی دعا کہ گھس گئی سجدے میں اُن کی ناک القصہ جہد کی نہ رہی کچھ بھی انتہا اک سُو تھا مگر ایک طرف سجدہ و دعا آخر خدا نے دی مجھے اس آگ سے نجات دشمن تھے جتنے اُن کی طرف کی نہ التفات کیسا یہ فضل اُس سے نمودار ہو گیا اک مفتری کا وہ بھی مددگار ہوگیا اُس کا تو فرض تھا کہ وہ وعدہ کو کر کے یاد خود مارتا وہ گردن کذاب بدنہاد