براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 410 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 410

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۴۱۰ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم یہ نمبر پھرتی تو دوسری قراءت میں موتھم کیوں ہوتا ؟ دیکھو تفسیر ثنائی کہ اس میں بڑے زور سے ہمارے اس بیان کی تصدیق موجود ہے اور اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے نزدیک یہی معنے ہیں مگر صاحب تفسیر لکھتا ہے کہ ابو ہریرہ فہم قرآن میں ناقص ہے اور اس کی درایت پر محدثین کو اعتراض ہے۔ ابو ہریرہ میں نقل کرنے کا مادہ تھا اور درایت اور فہم سے بہت ہی کم حصہ رکھتا تھا۔ اور میں کہتا ہوں کہ اگر ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایسے معنے کئے ہیں تو یہ اس کی غلطی ہے جیسا کہ اور کئی مقام میں محدثین نے ثابت کیا ہے کہ جو امور فہم اور درایت کے متعلق ہیں اکثر ابو ہریرہ اُن کے سمجھنے میں ٹھوکر کھاتا ہے اور غلطی کرتا ہے ۔ یہ مسلم امر ہے کہ ایک صحابی کی رائے شرعی حجت نہیں ہو سکتی ۔ شرعی حجت صرف اجماع صحابہ ہے ۔ سو ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس بات پر اجماع صحابہ ہو چکا ہے کہ تمام انبیاء فوت ہو چکے ہیں۔ اور یا درکھنا چاہیے کہ جبکہ آیت قبل موتہ کی دوسری قراءت قبل موتهم موجود ہے جو بموجب اصول محدثین کے حکم صحیح حدیث کا رکھتی ہے یعنی ایسی حدیث جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے تو اس صورت میں محض ابو ہریرہ کا اپنا قول رد کرنے کے لائق ہے کیونکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ کے مقابل پر بیچ اور لغو ہے اور اُس پر اصرار کرنا کفر تک پہنچا سکتا ہے ۔ اور پھر صرف اسی قدر نہیں بلکہ ابو ہریرہ کے قول سے قرآن شریف کا باطل ہونا لازم آتا ہے کیونکہ قرآن شریف تو جابجا فرماتا ہے کہ یہود و نصاریٰ قیامت تک رہیں گے ان کا بکلی استیصال نہیں ہوگا ۔ اور ابو ہریرہ کہتا ہے کہ یہود کا استیصال بکلی ہو جائے گا اور یہ سراسر مخالف قرآن شریف ہے۔ جو شخص قرآن شریف پر ایمان لاتا ہے اس کو چاہیے کہ ابو ہریرہ کے قول کو ایک رڈی متاع کی طرح پھینک دے بلکہ چونکہ قراءت ثانی حسب اصول محدثین حدیث صحیح کا حکم رکھتی ہے اور اس جگہ آیت قبل موتہ کی دوسری قراءت قبل موتهم موجود ہے جس کو حدیث صحیح سمجھنا چاہیے ۔ اس صورت میں ابو ہریرہ کا قول قرآن اور حدیث دونوں کے مخالف ہے۔ فلا شك انه باطل و من تبعه فانّه مفسد بطال كل ۲۳۵