براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 409 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 409

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۴۰۹ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا ہے کہ یہ امت خدا تعالیٰ کے نزدیک کچھ ایسی بد بخت اور بد قسمت ہے کہ اس کی نظر میں شریر اور نافرمان یہودیوں کا خطاب تو پا سکتی ہے مگر اس اُمت میں ایک فرد بھی ایسا نہیں کہ عیسی کا خطاب پاوے پس یہی حکمت تھی کہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ نے اس اُمت کے بعض افراد کا نام یہودی رکھ دیا اور دوسری طرف ایک فرد کا نام عیسی بھی رکھ دیا۔ بعض لوگ محض نادانی سے یا نہایت درجہ کے تعصب اور دھوکا دینے کی غرض سے حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی پر اس آیت کو بطور دلیل لاتے ہیں کہ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِم اور اس سے یہ معنے نکالنا چاہتے ہیں کہ اس وقت تک حضرت عیسی فوت نہیں ہوں گے جب تک کل اہل کتاب اُن پر ایمان لے آویں لیکن ایسے معنے وہی کرے گا جس کو فہم قرآن سے پورا حصہ نہیں ہے یا جو دیانت کے طریق سے دور ہے کیونکہ ایسے معنے کرنے سے قرآن شریف کی ایک پیشگوئی باطل ہوتی ہے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے فَاغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ اور پھر دوسری جگہ فرماتا ہے ۔ وَالْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاء إِلَى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ - أن آیتوں کے یہ معنے ہیں کہ ہم نے قیامت تک یہود اور نصاری میں دشمنی اور عداوت ڈال دی ہے پس اگر آیت ممدوحہ بالا کے یہ معنے ہیں کہ قیامت سے پہلے تمام یہودی (۲۳۳) حضرت عیسی پر ایمان لے آئیں گے تو اس سے لازم آتا ہے کہ کسی وقت یہود و نصاری کا بغض با ہمی دور بھی ہو جائے گا اور یہودی مذہب کا تخم زمین پر نہیں رہے گا حالانکہ قرآن شریف کی ان آیات سے اور کئی اور آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہودی مذہب قیامت تک رہے گا۔ ہاں ذلت اور مسکنت ان کے شامل حال ہوگی اور وہ دوسری طاقتوں کی پناہ میں زندگی بسر کریں گے ۔ پس آیت ممدوحہ بالا کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ ہر ایک شخص جو اہل کتاب میں سے ہے وہ اپنی موت سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یا حضرت عیسی پر ایمان لے آویں گے ۔ غرض موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف پھرتی ہے نہ حضرت عیسی کی طرف اسی وجہ سے اس آیت کی دوسری قراءت میں موتھم واقع ہے۔ اگر حضرت عیسی کی طرف ل النساء : ۱۶۰ المآئدة: ۱۵ المآئدة: ۶۵