براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 407 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 407

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۴۰۷ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم اور احادیث نبویہ میں اس کا نام عیسی رکھا گیا اور کیوں مثیل موسیٰ کی طرح اس جگہ بھی مثیل عیسی کے لفظ سے یاد نہ کیا گیا۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو منظور تھا کہ ایک عظیم واقعہ میں جو اسرائیلی عیسی پر وارد ہو چکا تھا اِس اُمت کے آخری خلیفہ کو شریک کرے اور وہ اس واقعہ میں اسی حالت میں شریک ہو سکتا تھا کہ جب اس کا نام عیسی رکھا جائے اور چونکہ خدا تعالیٰ کو منظور تھا کہ دونوں سلسلوں کی مطابقت دکھلاوے اس لئے اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مثیل موسیٰ رکھا کیونکہ حضرت موسیٰ کو جو فرعون کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں اُس واقعہ کی مشابہت اسی صورت میں نمایاں ہو سکتی تھی کہ جب آپ کو مثیل موسیٰ کر کے پکارا جاتا مگر جو واقعہ حضرت عیسی کو پیش آیا تھا وہ اس امت کے آخری خلیفہ میں اسی صورت میں متحقق ہو سکتا تھا کہ جب اُس کا نام عیسی رکھا جاتا کیونکہ اُس عیسی علیہ السلام کو یہودیوں نے صرف اس وجہ سے قبول نہیں کیا تھا کہ ملا کی نبی کی کتاب میں یہ لکھا گیا تھا کہ جب تک الیاس نبی دوبارہ دنیا میں نہیں آئے گا تب تک وہ عیسی ظاہر نہیں ہو گا لیکن الیاس نبی دوبارہ دنیا میں نہ آیا اور یوحنا یعنی حضرت بیٹی کو ہی الیاس قرار دیا گیا۔ اس لئے یہود نے حضرت عیسی کو قبول نہ کیا ۔ پس خدا تعالیٰ کی تقدیر میں مماثلت پوری کرنے کے لئے یہ قرار پایا تھا کہ آخری زمانہ میں بعض اسی اُمت کے لوگ ان یہودیوں کی طرح ہو جائیں گے ۔ جنہوں نے الیاس (۲۳۲) آنے والے کی حقیقت کو نہ سمجھ کر حضرت عیسی کی نبوت اور سچائی سے انکار کیا تھا ۔ پس ایسے یہودیوں کے لئے کسی ایسی پیشگوئی کی ضرورت تھی جس میں کسی گذشتہ نبی کی آمد کا ذکر ہوتا جیسا کہ الیاس کی نسبت پیشگوئی تھی اور تقدیر الہی میں قرار پا چکا تھا کہ ایسے یہودی اس امت میں بھی پیدا ہوں گے۔ پس اس لئے میرا نام عیسی رکھا گیا جیسا کہ حضرت بیٹی کا نام الیاس رکھا گیا تھا۔ چنانچہ آیت غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ میں اسی کی طرف اشارہ ہے پس عیسی کی آمد کی پیشگوئی اس اُمت کے لئے ایسی ہی تھی جیسا کہ یہودیوں کے لئے حضرت یحیی الفاتحة: 2