براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 406 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 406

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۴۰۶ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ہاں اس جگہ ایک طالب حق کا یہ حق ضرور ہے کہ وہ یہ سوال پیش کرے کہ اس میں کیا حکمت اور مصلحت تھی کہ توریت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف مثیل موسیٰ کر کے بیان کیا گیا لیکن انجیل میں خود عیسی کر کے ہی بیان کر دیا گیا۔ اور کیوں جائز نہیں کہ میسی سے مراد در حقیقت عیسی ہی ہو اور وہی دوبارہ آنے والا ہو۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام تو کسی طرح دوبارہ نہیں آسکتے کیونکہ وہ وفات پاگئے اور اُن کا وفات پا جانا اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں صریح لفظوں میں بیان فرما دیا ہے اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسی علیہ السلام کو اس جماعت میں آسمان پر بیٹھے ہوئے دیکھ لیا جو اس جہان سے گذر چکے ہیں ۔ پھر تیسری شہادت یہ کہ تمام اصحاب رضی اللہ عنہم کے اجماع سے تمام نبیوں کا فوت ہو جانا ثابت ہو گیا۔ پھر بعد اس کے عقل سلیم کی شہادت ہے جو شہادات ثلاثہ مذکورہ کی مؤید ہے کیونکہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے عقل نے اس واقعہ کی کوئی نظیر نہیں دیکھی اور کوئی نبی آج تک نہ کبھی مع جسم عنصری آسمان پر گیا اور نہ واپس آیا، پس چار شہادتیں باہم مل کر قطعی فیصلہ دیتی ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور ان کا زندہ آسمان پر مع جسم عصری جانا اور اب تک زندہ ہونا اور پھر کسی وقت مع جسم عنصری زمین پر آنا یہ سب ان پر تہمتیں ہیں ۔ افسوس کہ اسلام بُت پرستی سے بہت دور تھا لیکن آخر کار اسلام میں بھی بت پرستی کے رنگ میں یہ عقیدہ پیدا ہو گیا کہ حضرت عیسی کو (۲۳۱) ایسی خصوصیتیں دی گئیں جو دوسرے نبیوں میں نہیں پائی جاتیں۔ خدا تعالیٰ مسلمانوں کو اس قسم کی بت پرستی سے رہائی بخشے۔ عیسی کی موت میں اسلام کی زندگی ہے اور میسلی کی زندگی میں اسلام کی موت ہے۔ خداوہ دن لاوے کہ غافل مسلمانوں کی نظر اس راہ راست پر پڑے۔ آمین اب خلاصہ کلام یہ کہ جبکہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات قطعی طور پر ثابت ہے تو پھر یہ گمان بداہت باطل ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔ رہا سوال مذکورہ کے اس حصہ کا جواب کہ ایک اُمتی کا عیسی نام رکھنے میں کیا مصلحت تھی اور کیوں انجیل