براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 405
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۴۰۵ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم نہیں ہوسکتا کیونکہ ملک شام قیصر روم کی عملداری میں تھا۔ اور حضرت عیسی قیصر کے باغی قرار پاچکے تھے ۔ پس وہ کشمیر ہی تھا جو شام کے ملک سے مشابہ تھا اور قرار کی جگہ تھی ۔ یعنی امن کی جگہ تھی یعنی قیصر روم کو اس سے کچھ تعلق نہ تھا۔ اس جگہ بعض آدمی ایک اور اعتراض پیش کیا کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جس حالت میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ سلسلہ محمد یہ سلسلہ موسویہ کے مقابل پر قائم کیا گیا ہے اور ہر ایک حسن اور فتح میں یہ سلسلہ سلسلہ موسویہ کی مثال اپنے اندر رکھتا ہے تو اس صورت میں لازم تھا کہ جیسا کہ قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مثیل موسیٰ رکھا گیا ہے آخری خلیفہ کا نام پیشگوئیوں میں مثیل عیسی رکھا جاتا حالانکہ انجیل اور نیز احادیث نبویہ میں سلسلہ خلافت کے آخری زمانہ میں آنے والے کا نام عیسی ابن مریم رکھا گیا ہے مثیل عیسی نہیں رکھا۔ اس وہم کا جواب یہ ہے کہ ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ صدر اسلام اور آخر اسلام کے خلیفہ کے بارے میں اسی طرز سے بیان کرتا جس طرز سے خدا تعالیٰ کی پہلی کتابوں میں بیان کیا گیا تھا ۔ سو یہ امر کسی پر پوشیدہ نہیں کہ توریت میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت پیشگوئی ہے وہ انہیں الفاظ میں ہے کہ خدا تعالیٰ تمہارے بھائیوں میں سے موسیٰ کی مانند ایک نبی قائم کرے گا اُس مقام میں یہ نہیں لکھا کہ خدا موسیٰ کو بھیجے گا ۔ پس ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بارے میں توریت کے مطابق بیان فرماتا تا توریت اور قرآن شریف میں اختلاف پیدا نہ ہوتا ۔ پس اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا۔ اِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا ۔ یعنی ہم نے اُسی نبی کی مانند تمہاری (۲۳۰) طرف یہ رسول بھیجا ہے کہ جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔ لیکن آخری خلیفہ کے بارے میں جس کا نام عیسی رکھا گیا ہے انجیل میں یہ نہیں خبر دی گئی کہ آخری زمانہ میں مثیل عیسی آئے گا بلکہ یہ لکھا ہے کہ عیسی آئے گا۔ پس ضرور تھا کہ انجیل کی پیشگوئی کے مطابق اسلام کے آخری خلیفہ کا نام عیسی رکھا جاتا تا انجیل اور احادیث نبویہ میں اختلاف پیدا نہ ہوتا۔ المزمل : ١٦