براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 404
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۴۰۴ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم اور پھر باوجود اس اعتقاد کے پورے یقین سے اس بات کو جانتے ہیں کہ ایک اسرائیلی نبی کشمیر میں آیا تھا کہ جو اپنے تئیں شہزادہ نبی کر کے مشہور کرتا تھا۔ اور ان کی کتابیں بتلاتی ہیں کہ شمار کی رو سے اس زمانہ کو اب انیس سو برس سے کچھ زیادہ برس گزر گئے ہیں ۔ اس جگہ کشمیریوں کی سادہ لوحی سے ہمیں یہ فائدہ حاصل ہوا ہے کہ اگر وہ اس بات کا علم رکھتے کہ شاہزادہ نبی بنی اسرائیل میں کون تھا اور وہ نبی کون ہے جس کو اب انیس سو برس گزر گئے تو وہ کبھی ہمیں یہ کتابیں نہ دکھلاتے ۔ اس لئے میں کہتا ہوں کہ ہم نے ان کی سادہ لوحی سے بڑا فائدہ اٹھایا۔ ماسوا اس کے وہ لوگ شہزادہ نبی کا نام یوز آسف بیان کرتے ہیں یہ لفظ صریح معلوم ہوتا ہے، کہ یسوع آسف کا بگڑا ہوا ہے۔ آسف عبرانی زبان میں اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو قوم کو تلاش کرنے والا ہو چونکہ حضرت عیسی اپنی اس قوم کو تلاش کرتے کرتے جو بعض فرقے یہودیوں میں سے گم تھے کشمیر میں پہنچے تھے اس لئے انہوں نے اپنا نام یسوع آسف رکھا تھا اور یوز آسف کی کتاب میں صریح لکھا ہے کہ یوز آسف پر خدا تعالی کی طرف سے انجیل اتری تھی۔ پس با وجود اس قدر دلائل واضحہ کے کیونکر اس بات سے انکار کیا جائے کہ یوز آسف دراصل حضرت عیسی علیہ السلام ہے ورنہ یہ بار ثبوت ہمارے مخالفوں کی گردن پر ہے کہ وہ کون شخص ہے جو اپنے تئیں شاہزادہ نبی ظاہر کرتا تھا جس کا زمانہ حضرت عیسی کے زمانہ سے بالکل مطابق ہے اور یہ پتہ بھی ملا ہے کہ جب حضرت عیسی کشمیر میں آئے تو اس زمانہ کے بدھ مذہب والوں نے اپنی پیستکوں میں ان کا کچھ ذکر کیا ہے۔ ایک اور قوی دلیل اس بات پر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ أَوَيْنَهُما إلى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَ مَعِينٍ یعنی ہم نے عیسی اور اس کی ماں کو ایک ایسے ٹیلے پر پناہ دی جو ۲۲۹ آرام کی جگہ تھی اور ہر ایک دشمن کی دست درازی سے دور تھی اور پانی اُس کا بہت خوشگوار تھا۔ یادر ہے کہ اولی کا لفظ عربی زبان میں اس جگہ پر بولا جاتا ہے جب ایک مصیبت کے بعد کسی شخص کو پناہ دیتے ہیں ایسی جگہ میں جو دار الامان ہوتا ہے پس وہ دارالامان ملک شام ل المؤمنون: ۵۱