براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 17
روحانی خزائن جلد ۲۱ 12 نصرة الحق پن دیکھے کیسے پاک ہو انساں گناہ سے اس چاہ سے نکلتے ہیں لوگ اُس کی چاہ سے تصویر شیر سے نہ ڈرے کوئی گوسپند کے مار مُردہ سے ہے کچھ اندیشۂ گزند پھر وہ خدا جو مُردہ کی مانند ہے پڑا پس کیا امید ایسے سے اور خوف اُس سے کیا ایسے خدا کے خوف سے دل کیسے پاک ہو سینہ میں اُسکے عشق سے کیونکر تپاک ہو بن دیکھے کس طرح کسی مہ رُخ پہ آئے دل کیونکر کوئی خیالی صنم سے لگائے دل دیدار گر نہیں ہے تو گفتار ہی سہی حسن و جمالِ یار کے آثار ہی سہی جب تک خدائے زندہ کی تم کو خبر نہیں بے قید اور دلیر ہو کچھ دل میں ڈر نہیں سوروگ کی دوا یہی وصلِ الہی ہے اس قید میں ہر ایک گنہ سے رہائی ہے پر جس خدا کے ہونے کا کچھ بھی نہیں نشاں کیونکر شمار ایسے پہ ہو جائے کوئی جاں ہر چیز میں خدا کی ضیا کا ظہور ہے پر پھر بھی غافلوں سے وہ دلدار دور ہے جو خاک میں ملے اُسے ملتا ہے آشنا اے آزمانے والے یہ نسخہ بھی آزما (۸) عاشق جو ہیں وہ یار کو مر مر کے پاتے ہیں جب مر گئے تو اسکی طرف کھینچے جاتے ہیں یہ راہ تنگ ہے پہ یہی ایک راہ ہے دلبر کی مرنے والوں پہ ہردم نگاہ ہے ناپاک زندگی ہے جو دوری میں کٹ گئی دیوار زہد خشک کی آخر کو پھٹ گئی زندہ وہی ہیں جو کہ خدا کے قریب ہیں مقبول بن کے اُس کے عزیز و حبیب ہیں وہ دور ہیں خدا سے جو تقویٰ سے دور ہیں ہر دم اسیر نخوت و کبر و غرور ہیں تقویٰ یہی ہے یارو کہ نخوت کو چھوڑ دو کبر و غرور و بخل کی عادت کو چھوڑ د رو