براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 395 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 395

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۹۵ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم شبہ پڑے گا کہ وہ انسان نہیں ہیں ۔ خاص کر اس صورت میں کہ ایسے فوق الانسانیت خواص دکھلانے میں کوئی دوسرا انسان ان کا شریک نہیں۔ اور پھر ایک اور دلیل حضرت عیسی کی وفات پر قرآن شریف کی یہ آیت ہے۔ اللہ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضُعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِن بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُعْفًا وَشَيْبَةَ (ترجمہ) یعنی خداوہ خدا ہے جس نے تمہیں ضعف سے پیدا کیا پھر ضعف کے بعد قوت دے دی۔ پھر قوت کے بعد ضعف اور پیرانہ سالی دی۔ اب ظاہر ہے کہ یہ آیت تمام انسانوں کے لئے ہے یہاں تک کہ تمام انبیاء علیهم السّلام اس میں داخل ہیں۔ اور خود ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو نبیوں کے سردار ہیں وہ بھی اس سے باہر نہیں۔ آپ پر بھی پیرانہ سالی کے علامات ظاہر ہو گئے تھے اور چند بال سفید ریش مبارک میں آگئے تھے۔ اور آپ خود اپنی آخری عمر میں آثار پیرانہ سالی کے ضعف کے اپنے اندر محسوس کرتے تھے ۔ لیکن بقول ہمارے مخالفین کے حضرت عیسی اس سے بھی باہر ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک خصوصیت ان کی ہے جو فوق العادت ہے اور یہی حضرت عیسی علیہ السلام کی خدائی پر ایک دلیل ہے۔ پس حضرت عیسی کی خدائی پر صرف ایک دلیل نہیں بلکہ پانچ دلیلیں ہیں جو بزعم نصاری اور عقیدہ ہماری قوم کے مخالفوں کے اس جگہ موجود ہیں جن کا ابطال بغیر اس خصوصیت کے توڑنے کے ممکن نہیں کیونکہ جس حالت میں حضرت عیسی ہی اپنی ذات میں یہ خصوصیت رکھتے ہیں کہ وہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے کوئی دوسرا انسان ان کا شریک نہیں ۔ اور پھر دوسری یہ خصوصیت بھی رکھتے ہیں کہ صد ہا سال تک بغیر آب و دانہ کے آسمان پر زندہ رہنے والے وہی ٹھہرے جس میں ان کا کوئی دوسرا انسان شریک نہیں ۔ اور پھر تیسری یہ خصوصیت رکھتے ہیں کہ آسمان پر اتنی مدت تک پیرانہ سالی اور ضعف سے محفوظ رہنے والے وہی ٹھہرے جس میں ان کا کوئی آدمی شریک نہیں ۔ اور پھر چوتھی یہ خصوصیت رکھتے ہیں کہ مدت دراز کے بعد آسمان سے مع ملائک نازل ہونے والے وہی ٹھہرے جس میں ان کا ایک بشر بھی شریک نہیں۔ اب سوچنا چاہیے کہ یہ چار خصوصیتیں جو محض ان کی ذات میں تسلیم کی جاتی ہیں الروم : ۵۵ ۲۱۹