براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 394 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 394

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۹۴ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم اور پھر ایک اور دلیل حضرت عیسی کی وفات پر قرآن شریف کی یہ آیت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ ۔ ( ترجمه ) تم (اے بنی آدم ) زمین میں ہی زندگی بسر کرو گے اور زمین میں ہی مرو گے اور زمین میں سے ہی نکالے جاؤ گے ۔ پس باجود اس قدر نص صریح کے کیونکر ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بجائے زمین پر رہنے کے قریباً دو ہزار برس یا اس سے بھی زیادہ کسی نامعلوم مدت تک آسمان پر رہیں ایسی صورت میں تو قرآن شریف کا ابطال لازم آتا ہے۔ اور پھر ایک اور دلیل حضرت عیسی کی وفات پر قرآن شریف کی یہ آیت ہے۔ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلى حِينٍ ( ترجمہ ) اور تمہاری قرار گاہ زمین ہی ہوگی اور موت کے دنوں تک تم زمین پر ہی اپنے آرام کی چیزیں حاصل کرو گے ۔ یہ آیت بھی آیت ممدوحہ بالا کے ہم معنے ہے۔ پس کس طرح ممکن ہے کہ حضرت عیسی زمین پر جو انسانوں کے رہنے کی جگہ ہے صرف تینتیس برس تک زندگی بسر کریں مگر آسمان پر جو انسانوں کے رہنے کی جگہ نہیں دو ہزار برس تک یا اس سے بھی زیادہ کسی نامعلوم مدت تک سکونت اختیار کر رکھیں ۔ اس سے تو ہے جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں حضرت عیسی کا خود اپنا ایک اقرار ہے جو ان کی وفات پر شاہد ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے اس سوال کے جواب میں کہ اے عیسی کیا تو نے ہی لوگوں کو تعلیم دی تھی کہ مجھ کو اور میری ماں کو خدا کر کے مانو یہ جواب دیتے ہیں جو قرآن شریف میں مندرج ہے یعنی یہ آیت وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أنتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ یعنی میں تو اس زمانہ تک ان پر گواہ تھا جب میں ان کے درمیان تھا اور جب تو نے مجھے وفات دے دی تو پھر ان کا محافظ تو ہی تھا۔ اس جواب میں حضرت عیسی عیسائیوں کی ہدایت کو اپنی زندگی سے وابستہ کرتے ہیں۔ پس اگر حضرت عیسی اب تک زندہ ہیں تو اس سے لازم آتا ہے کہ عیسائی بھی حق پر ہیں اور اس آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت میسلی قبل از قیامت دوبارہ دنیا میں نہیں آئیں گے ورنہ نعوذ باللہ یہ لازم آتا ہے کہ وہ خدا تعالی کے سامنے جھوٹ بولیں گے کہ مجھے اپنی امت کے بگڑنے کی کچھ بھی اطلاع نہیں۔ منہ الاعراف: ۲۶ البقرة : ٣٧ المآئدة: ١١٨