براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 393
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۹۳ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم اس طرح پر وہ خدا کی اس برہان اور دلیل کو توڑنا چاہتے ہیں جو آیت ممدوحہ بالا میں اس نے قائم کی ہے یعنی خدا تو حضرت عیسی علیہ السلام کے انسان ہونے کی یہ دلیل دیتا ہے کہ اور انسانوں کی طرح وہ بھی محتاج غذا تھا اور بغیر غذا کے اس کا بدن قائم نہیں رہ سکتا تھا بلکہ بدل ما تخلل کی ضرورت تھی۔ لیکن یہ لوگ جو حضرت عیسی کو مع جسم عنصری آسمان پر پہنچاتے ہیں وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کا وجود بغیر غذا کے قائم رہ سکتا ہے تو گویا وہ بر خلاف منشاء اللہ تعالیٰ کے حضرت عیسی کی خدائی کی ایک دلیل پیش کرتے ہیں۔ شرم کی جگہ ہے کہ جس دلیل کو خدا نے اس غرض سے پیش کیا ہے کہ تا حضرت عیسی کی انسانیت ثابت ہو یہ لوگ اُس دلیل کی بے عزتی کرتے ہیں کیونکہ جس بات سے خدا تعالیٰ انکار کرتا ہے کہ وہ بات مسیح میں موجود نہیں تا اس کو خدا ٹھہرایا جائے یہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ بات اُس میں موجود ہے پس یہ خدا کی اس حجت کاملہ کی بے عزتی ہے جو حضرت عیسی کے انسان ہونے کے لئے وہ پیش کرتا ہے۔ اگر یہ بات سچ ہے کہ حضرت عیسی با وجود جسم عنصری کے روٹی کھانے کے محتاج نہیں اور ان کا بدن خدا کے وجود کی ۲۱۸ طرح خود بخود قائم رہ سکتا ہے تو یہ تو اُن کی خدائی کی ایک دلیل ہے جو قدیم سے عیسائی پیش کیا کرتے ہیں اور اس کے جواب میں یہ کہنا کافی نہیں کہ زمین پر تو وہ روٹی کھایا کرتے تھے گوده آسمان پر نہیں کھاتے کیونکہ مخالف کہ سکتا ہے کہ زمین پر وہ محض اپنے اختیار سے کھاتے تھے انسانوں کی طرح روٹی کے محتاج نہ تھے اور اگر محتاج ہوتے تو آسمان پر بھی ضرور محتاج ہوتے مجھے بار بار اس قوم پر افسوس آتا ہے کہ خدا تو حضرت مسیح کا روٹی کھانا ان کی انسانیت پر دلیل لاوے اور یہ لوگ اعتقاد رکھیں کہ گوحضرت مسیح نے زمین پر تین برس تک روٹی کھائی مگر آسمان پر اُنیس سو برس سے بغیر روٹی کھانے کے جیتے ہیں۔ 1900