براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 380
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۸۰ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم عرب کے دیوانوں کی محض اسی غرض سے سیر کی اور جاہلیت اور اسلامی زمانہ کے اشعار بڑے غور سے دیکھے اور بہت سا وقت ان کے دیکھنے میں خرچ ہوا مگر میں نے ان میں بھی ایک نظیر ایسی نہ پائی کہ جب خدا توفی کے لفظ کا فاعل ہو اور ایک علم مفعول به ہو یعنی کوئی شخص اس کا نام لیکر مفعول به ٹھہرایا گیا ہو تو ایسی صورت میں بجز مار دینے کے کوئی اور معنے ہوں بعد اس کے میں نے اکثر عرب کے اہل علم اور اہل فضل و کمال سے دریافت کیا تو ان کی زبانی بھی یہی معلوم ہوا کہ آج کے دنوں تک تمام عرب کی سرزمین میں یہی محاورہ جاری وساری ہے کہ جب ایک شخص دوسرے شخص کی نسبت بیان کرتا ہے کہ توفی اللہ فلانا تو اس کے معنے قطعی اور یقینی طور پر یہی سمجھے جاتے ہیں کہ فلاں شخص کو خدا تعالیٰ نے مار دیا ۔ اور جب ایک عرب کو دوسرے عرب کی طرف سے خط آتا ہے اور اس میں مثلاً یہ لکھا ہوا ہوتا ہے کہ توفی الله زیدا تو اس کا یہی مطلب سمجھا جاتا ہے کہ خدا نے زید کو مار دیا۔ پس اس قدر تحقیق کے بعد جو حق الیقین تک پہنچ گئی ہے یہ امر فیصلہ ہو گیا ہے اور امورمشہودہ محسوسہ کے درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ ایک شخص جس کی نسبت اس طور سے لفظ تو فی استعمال کیا جائے۔ اس کے یہی معنے ہوں گے کہ وہ شخص وفات پا گیا ہے نہ اور کچھ اور چونکہ اسی طور سے لفظ تو فی قرآن شریف میں حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت دو مقام میں استعمال پایا ہے ۔ پس قطعی اور یقینی طور پر ۲۰۸) معلوم ہوا کہ در حقیقت حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں اور ان کا رفع وہی ہے جو روحانی رفع ہوتا ہے۔ اور ان کی وفات بذریعہ قتل اور صلیب کے نہیں ہوئی ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں خبر دی ہے بلکہ وہ اپنی طبعی موت سے وفات پاگئے ہیں۔ اور لسان العرب اور دیگر کتب لغت سے ظاہر ہے کہ اصل معنی توفی کے یہی ہیں کہ طبعی موت سے کسی کو مارا جائے اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ زبان عرب کا ایک