براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 379
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۷۹ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم خدا نے اُس کو مار دیا۔ اس مقام میں تاج العروس میں یہ فقرہ لکھا ہے۔ تُوقِيَ فَلان اذا مات يعني تُوُفِّيَ فلان اس شخص کی نسبت کہا جائے گا۔ جب وہ مرجائے گا۔ دوسرا فقرہ تاج العروس میں یہ لکھا ہے تَوَفَّاهُ الله عَزَّ وَجَلَّ إِذَا قَبَضَ نَفْسَهُ یعنی یہ فقره که تَوَفَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ اس مقام میں بولا جائے گا۔ جب خدا کسی کی روح قبض کرے گا ۔ اور صحاح میں لکھا ہے تَوَفَّاهُ اللهُ قَبَضَ رُوحَہ یعنی اس فقرہ تَوَفَّاهُ الله کے یہ معنے ہیں کہ فلاں شخص کی روح کو خدا تعالیٰ نے قبض کر لیا ہے۔ اور میں نے جہاں تک ممکن تھا صحاح ستہ اور دوسری احادیث نبویہ پر نظر ڈالی تو معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام اور صحابہ کے کلام اور تابعین کے کلام اور تبع تابعین کے کلام میں کوئی ایک نظیر بھی ایسی نہیں پائی جاتی جس سے یہ ثابت ہو کہ کسی علم پر توفی کا لفظ آیا ہو یعنی کسی شخص کا نام لے کر توفی کا لفظ اس کی نسبت استعمال کیا گیا ہو اور خدا فاعل اور شخص مفعول بہ ٹھہرایا گیا ہو اور ایسی صورت میں اس فقرہ کے معنے بجز وفات دینے کے کوئی اور کئے گئے ہوں بلکہ ہر ایک مقام میں جب نام لے کر کسی شخص کی نسبت تو فی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور اس جگہ خدا فاعل اور وہ شخص مفعول به ہے جس کا نام لیا گیا تو اس سے یہی معنے مراد لئے گئے ہیں کہ وہ فوت ہو گیا ہے ۔ چنانچہ ایسی نظیریں مجھے تین سو سے بھی زیادہ احادیث میں سے ملیں جن سے ثابت ہوا کہ جہاں کہیں تو قی کے لفظ کا خدا فاعل ہو اور وہ شخص مفعول به هو (۲۰۷) جس کا نام لیا گیا ہے تو اس جگہ صرف مار دینے کے معنے ہیں نہ اور کچھ مگر با وجود تمام تر تلاش کے ایک بھی ایسی حدیث مجھے نہ ملی جس میں توفی کے فعل کا خدا فاعل ہو اور مفعول به علم ہو یعنی نام لے کر کسی شخص کو مفعول بہ ٹھہرایا گیا ہو اور اس جگہ بجز مارنے سے کوئی اور معنے ہوں۔ اسی طرح جب قرآن شریف پر اول سے آخر تک نظر ڈالی گئی تو اس سے بھی یہی ثابت ہوا جیسا کہ آیت تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَالْحِقْنِي بِالصّلِحِينَ اور آیت وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ وغیرہ آیات سے ثابت ہے اور پھر میں نے ا يوسف : ١٠٢ يونس : ۴۷