براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 378 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 378

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۷۸ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کے ذریعہ سے تو ہلاک نہیں کیا جائے گا اور میں تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا ۔ پس یہ آیت تو بطور ایک وعدہ کے تھی۔ اور دوسری آیت ممدوحہ بالا میں اس وعدہ کے ایفاء کی طرف اشارہ ہے جس کا ترجمہ مع تشریح یہ ہے کہ یہود خود یقینا اعتقادنہیں رکھتے کہ انہوں نے عیسی کو قتل کیا ہے اور جب قتل ثابت نہیں تو پھر موت طبعی ثابت ہے جو ہر ایک انسان کے لئے ضروری ہے۔ پس اس صورت میں جس امر کو یہودیوں نے اپنے خیال میں حضرت عیسی کے رفع الی اللہ کے لئے مانع ٹھہرایا تھا یعنی قتل اور صلیب وہ مانع باطل ہوا اور خدا نے اپنے وعدہ کے موافق ان کو اپنی طرف اٹھالیا۔ اور اس جگہ اس بات پر ضد کرنا بے فائدہ ہے کہ توفی کے معنے مارنا نہیں کیونکہ اس بات پر تمام ائمہ لغت عرب اتفاق رکھتے ہیں کہ جب ایک علم پر یعنی کسی شخص کا نام لے کر توفی کا لفظ اُس پر استعمال کیا جائے مثلاً کہا جائے توفی الله زیدا تو اس کے یہی معنے ہونگے کہ خدا نے زید کو مار دیا۔ اسی وجہ سے ائمہ لغت ایسے موقع پر دوسرے معنے لکھتے ہی نہیں ۔ صرف وفات دینا لکھتے ہیں۔ چنانچہ لسان العرب میں ہمارے بیان کے مطابق یہ فقرہ ہے توفی فلان و توفاه الله اذا قبض نفسه و في الصحاح اذا قبض روحہ یعنی جب یہ بولا جائے گا کہ توقی فلان یا یہ کہا جائے گا تو فاہ اللہ تو اس کے صرف یہی معنے ہوں گے کہ فلاں شخص مر گیا اور صحیح بخاری میں بھی جو بعد کتاب اللہ اصح الکتب کہلاتی ہے توفی کے معنے مارنا ہی لکھا ہے کیونکہ حضرت ابن عباس سے آیت يُعِى إِلى مُتَوَفِّيكَ کی نسبت یہ روایت لکھی ہے کہ انی مُبینک ۔ اور امام بخاری نے بھی اپنا یہی مذہب ظاہر کیا ہے کیونکہ وہ اس کی تائید کے لئے ایک اور حدیث لایا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جیسا کہ میسی قیامت کو کہے گا کہ جولوگ میری اُمت میں سے بگڑ گئے ہیں وہ میری موت کے بعد بگڑے ہیں۔ میں بھی یہی کہوں گا کہ جو لوگ میری اُمت میں سے بگڑے ہیں وہ میری موت کے بعد بگڑے ہیں۔ پس ایسی صورت میں جو تو فی کے لفظ کا فاعل خدا اور کوئی نام لے کر مفعول یہ ہو ضرور مارنا ہی معنے ہوتے ہیں جس سے انکار کی کوئی صورت نہیں۔ منہ