براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 374
روحانی خزائن جلد ۲۱ نیچے کے حصہ میں ہوگی۔ ۳۷۴ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم اور اگر کوئی یہ کہے کہ ان چادروں سے اصلی چادر میں ہی مراد ہیں تو گویا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ حضرت عیسی علیہ السلام نزول کے وقت ہندوؤں کے جوگیوں کی طرح زرد رنگ کی دو چادروں میں نازل ہوں گے۔ مگر یہ معنے ان معنوں کے برخلاف ہیں جو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (۲۲) اپنے مکاشفات کی نسبت کئے ہیں۔ جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں میں دو کڑے دیکھے تھے اور اس کی تعبیر دو جھوٹے نبی فرمایا تھا۔ اور گائیاں ذبح ہوتی دیکھی تھیں اور اُس کی تعبیر اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کی شہادت فرمائی تھی۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک بڑا پیراہن دیکھا تھا اور اس کی تعبیر تقویٰ کی تھی۔ پس اس حدیث میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت قدیم کے موافق کیوں دوز رد چادروں کی وہ تعبیر نہ کی جائے جو بالاتفاق اسلام کے تمام اکابر معتبر وں نے کی ہے جن میں سے ایک بھی اس تعبیر کے مخالف نہیں۔ اور وہ یہی تعبیر ہے کہ دو زرد چادروں سے دو بیماریاں مراد ہیں۔ اور میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ میرا تجربہ بھی یہی ہے اور بہت سے مرتبہ جس کا میں شمار نہیں کر سکتا مجھے رویا میں اپنی نسبت یا کسی دوسرے کی نسبت جب بھی معلوم ہوا کہ زرد چادر بدن پر ہے تو اس سے بیمار ہونا ہی ظہور میں آیا ہے۔ پس یہ ظلم ہے کہ جیسا کہ متوفیک کے لفظ کے معنے حضرت عیسی کی نسبت سارے جہان کے برخلاف کئے جاتے ہیں ایسا ہی دو " زرد چادروں کی نسبت بھی وہ معنے کئے جائیں کہ جو برخلاف بیان کردہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم و اصحاب رضی اللہ عنہم و تابعین و تبع تابعین وائمہ اہل بیت ہوں۔ اب خلاصہ کلام یہ کہ اس مقام میں نہایت ضروری بحث یہ ہے کہ آیا حضرت عیسی علیہ السلام در حقیقت فوت ہو گئے یا نہیں کیونکہ اگر یہ بات ثابت ہے کہ وہ مع جسم عنصری زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں تو پھر جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں۔ بہر حال ان کا زمین پر آنا مہدی کی شمولیت کے لئے یا صرف مرنے کے لئے ضروری ہے۔ یہی اصل بحث ہے جس کے مطے ہونے سے تمام جھگڑا طے ہو جاتا ہے اور جس فریق کے ہاتھ میں دلائل قویہ حیات یا موت حضرت عیسی علیہ السلام کے ہیں وہی فریق