براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 372 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 372

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۷۲ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم قیامت سے پہلے دوبارہ دنیا میں نازل ہوں گے مگر نہیں بتلاتے کہ وہ کونسی غرض تھی جس کے لئے وہ آسمان پر اٹھائے گئے کیا صرف یہودیوں کے ہاتھ سے جان بچانا منظور تھا یا کوئی اور بات تھی؟ اور نہیں بتلا سکتے کہ اب تک جو دو ہزار برس کے قریب ہو چکا کیوں وہ آسمان پر ۲۰۰ ہیں۔ کیا ابھی تک یہودیوں کے مواخذہ کا کچھ دھڑ کا دل میں باقی ہے؟ اور نہیں بتلا سکتے کہ کیوں ان کو یہ خصوصیت دی گئی کہ بر خلاف جمیع انبیاء کے وہ اتنی مدت تک کہ اب دو ہزار برس کے قریب پہنچ گئے آسمان پر ہیں۔ اور پھر کسی وقت مطابق پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمین پر نازل ہوں گے اور نہیں بتلا سکتے کہ ایسے رفع جسمانی اور پھر نزول میں مصلحت الہی کیا تھی ؟ کیا یہودیوں کے پکڑنے کا اندیشہ یا کچھ اور ۔ اور نہیں بتلا سکتے کہ ایسے شخص کو یہ صعود اور نزول کی خصوصیت کیوں دی گئی جس کی نسبت اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ وہ خدا بنایا جائے گا۔ اور چالیس کروڑ مخلوق محض اس کی طرف یہ خوارق منسوب ہونے کی وجہ سے اس کو خدا کا بیٹا بلکہ خدا ما نہیں گے ۔ اور یہ لوگ اگر چہ بڑے زور سے کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ مرے نہیں بلکہ زندہ ہیں مگر نہیں بتلا سکتے کہ بر خلاف سنت اللہ کی کس نص صریح قرآن شریف سے ان کی زندگی ثابت ہے۔ مگر وہ عقیدہ جس پر خدا تعالیٰ نے علی وجہ البصیرت مجھ کو قائم کیا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام مثل دیگر انسانوں کے انسانی عمر پا کر فوت ہو گئے ہیں اور آسمان پر مع جسم عصری چڑھ جانا اور پھر کسی وقت مع جسم عصری زمین پر نازل ہونا یہ سب اُن پر تہمتیں ہیں ۔ قَالَ اللهُ عَزَّوَجَل : قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا پس اصل مسئلہ جو طے ہونے اور فیصلہ ہونے کے لائق ہے وہ یہی ہے کہ کیا یہ سچ ہے کہ بر خلاف عادت اللہ در حقیقت حضرت عیسی علیہ السلام مع جسم عنصری آسمان پر چڑھ گئے تھے اور اگر به نصوص صریحه مینه قرآن شریف سے ثابت ہو جائے کہ حضرت عیسی علیہ السلام در حقیقت آسمان پر مع جسم عنصری اٹھائے گئے تھے تو پھر اُن کے نازل ہونے کے بارے میں کسی بحث کی ضرورت نہیں کیونکہ جو شخص مع جسم عنصری آسمان پر جائے گا اُس کا واپس آنا بموجب نص قرآنی ضروری ہے ا بنی اسرائیل : ۹۴