براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 371
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۷۱ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم جواب شبهات انقلاب اسلع فی محقیقن الهدی واسیح مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کے خرافات کا مجموعہ ہے اس رسالہ میں جہاں تک مؤلف سے ہو سکا میری تکذیب کے لئے بہت ہاتھ پیر مارے ہیں اور اپنے خیال کو قوت دینے کے لئے بہت سی خلاف واقعہ ہاتوں سے کام لیا ہے۔ یہ کتاب سراسر چی اور بے اصل اور لغو خیالات اور مفتریات سے پُر ہے۔ اور میں جانتا ہوں کہ اس کے رڈ کی کچھ بھی ضرورت نہیں اور ایسا شخص جو قرآن شریف اور حدیث کا کچھ علم رکھتا ہے اس کے لئے اس بات کی حاجت نہیں کہ اس کا رڈ لکھا جائے مگر چونکہ میں نے سنا ہے کہ مولوی رشید احمد صاحب کے مرید سہارنپور کے نواح میں اس رسالہ کو بہت عزت سے دیکھتے ہیں اور محض اس خیال سے کہ یہ تحریر ان کی ایام زندگی کی یادگار ہے بہت محبت سے اس کو پڑھتے ہیں اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ ایسے لوگوں کو دھوکہ سے بچانے کے لئے ان چند ضروری اعتراضات کا جواب دیا جائے جن کی وجہ سے اس نواح کے جاہل اور بے علم ورطة ضلالت میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ اور اس رسالہ مجموعہ اباطیل پر ناز کرتے ہیں۔ لیکن میں اس جگہ حق کے طالبوں پر ایک سیدھی راہ کھولنے کے لئے مناسب سمجھتا ہوں کہ جو اصل مسئله ما بہ النزاع ہے پہلے اس کا کچھ تذکرہ کیا جائے ۔ سو وہ یہ ہے کہ ہمارے مخالف جن میں مولوی رشید احمد بھی داخل ہیں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت نہیں ہوئے اور وہ کسی غرض کے لئے زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے ہیں کیے اور کسی وقت معبرین نے لکھا ہے کہ جو شخص خواب میں یہ دیکھے کہ وہ زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلا گیا ہے اُس کی یہی تعبیر ہوگی کہ وہ اپنی طبعی موت سے مرے گا۔ یعنی مخالفوں کے ارادہ قتل سے امن میں رہے گا۔ پس کچھ تعجب نہیں کہ ایسی خواب حضرت عیسی نے بھی دیکھی ہو اور پھر نادان لوگوں نے خواب کی تعبیر پر نظر نہ رکھ کر بیچ بیچ آسمان پر مع جسم عصری جانا سمجھ لیا ہو ۔ منہ ۱۹۹