براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 369 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 369

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۶۹ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم نہیں بلکہ ہزار ہا انسان گواہ ہیں۔ ناحق کی تکذیب سے کیا فائدہ۔ کیا ایسی باتوں سے حضرت عیسی کا دوبارہ آنا قریب قیاس ہو جائے گا؟ حضرت عیسی کے دوبارہ آنے سے تو ہاتھ دھو بیٹھنا چاہیے ہر ایک مخالف یقین رکھے کہ اپنے وقت پر وہ جان کندن کی حالت تک پہنچے گا اور مرے گا مگر حضرت عیسی کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا۔ یہ بھی میری ایک پیشگوئی ہے جس کی سچائی کا ہر ایک مخالف اپنے مرنے کے وقت گواہ ہوگا۔ جس قدر مولوی اور ملاں ہیں اور ہر ایک اہل عناد جو میرے مخالف کچھ لکھتا ہے وہ سب یا درکھیں کہ اس امید سے وہ نامراد مریں گے کہ حضرت عیسی کو وہ آسمان سے اُترتے دیکھ لیں۔ وہ ہرگز اُن کو اُترتے نہیں دیکھیں گے یہاں تک کہ بیمار ہو کر غرغرہ کی حالت تک پہنچ جائیں گے اور نہایت تلخی سے اس دنیا کو چھوڑیں گے۔ کیا یہ پیشگوئی نہیں؟ کیا وہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ پوری نہیں ہوگی ؟ ضرور پوری ہوگی پھر اگر اُن کی اولاد ہوگی تو وہ بھی یا درکھیں کہ اسی طرح وہ بھی نامراد مریں گے اور کوئی شخص آسمان سے نہیں اُترے گا۔ اور پھر اگر اولاد کی اولاد ہوگی تو وہ بھی اس نا مرادی سے حصہ لیں گے اور کوئی ان میں سے حضرت عیسی کو آسمان سے اترتے نہیں دیکھے گا۔ اور بعض نادان کہتے ہیں کہ احمد بیگ کے داماد کی نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی وہ نہیں سمجھتے کہ یہ پیشگوئی بھی عبداللہ آتھم کے متعلق کی پیشگوئی کی طرح شرطی تھی اور اس میں خدا تعالیٰ کی وحی اُس کی منکوحہ کی نانی کو مخاطب کر کے بیتھی تو بی توبی فان البلاء علی عقبک یعنی اے عورت تو بہ تو بہ کر کہ تیری لڑکی کی لڑکی پر بلا آنے والی ہے۔ سو جب خود احمد بیگ اس پیشگوئی کے مطابق جس کی یہ پیشگوئی ایک شاخ ہے میعاد کے اندر فوت ہو گیا تو جیسا کہ انسانی سرشت کا خاصہ ہے سب متعلقین کے دلوں میں خوف پیدا ہوا اور وہ ڈرے اور تضرع کیا اس لئے خدا نے اس پیشگوئی کے ظہور میں تاخیر ڈال دی اور یہ تو شرطی پیشگوئی تھی جیسا (۱۹۸ کے کہ عبد اللہ آتھم کی موت کی نسبت بھی شرطی پیشگوئی تھی جس کی وفات پر قریباً گیاراں برس گذر گئے مگر یونس نبی نے جو اپنی قوم کے ہلاک ہونے کی نسبت پیشگوئی کی تھی ۔ اُس میں