براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 359 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 359

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۵۹ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم عیسی علیہ السلام حضرت موسی سے چودھویں صدی میں پیدا ہوئے تھے۔ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے چودھویں صدی میں ظاہر ہوا ہوں اور اس آخری زمانہ کی نسبت خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ خبریں بھی دی تھیں کہ کتابیں اور رسالے بہت سے دنیا میں شائع ہو جائیں گے اور قوموں کی باہمی ملاقات کے لئے راہیں کھل جائیں گی۔ اور دریاؤں میں سے بکثرت نہریں نکلیں گی ۔ اور بہت سی نئی کا نہیں پیدا ہو جائیں گی۔ اور لوگوں میں مذہبی امور میں بہت سے تنازعات پیدا ہوں گے۔ اور ایک قوم دوسری قوم پر حملہ کرے گی۔ اور اسی اثناء میں آسمان سے ایک صور پھونکی جائے گی ۔ یعنی خدا تعالیٰ مسیح موعود کو بھیج کر اشاعت دین کے لئے ایک تجلی فرمائے گا۔ تب دین اسلام کی طرف ہر ایک ملک میں سعید الفطرت لوگوں کو ایک رغبت پیدا ہو جائے گی۔ اور جس حد تک خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے تمام زمین کے سعید لوگوں کو اسلام پر جمع کرے گا۔ تب آخر ہوگا۔ سو یہ تمام باتیں ظہور میں آگئیں۔ ایسا ہی احادیث صحیحہ میں آیا تھا کہ وہ مسیح موعود صدی کے سر پر آئے گا۔ اور وہ چودھویں صدی کا مجدد ہوگا۔ سو یہ تمام علامات بھی اس زمانہ میں پوری ہو گئیں ۔ اور لکھا تھا کہ وہ اپنی پیدائش کی رو سے دوصدیوں میں اشتراک رکھے گا۔ اور دو نام پائے گا۔ اور اُس کی ہوا تھا مگر یہ انہوں نے غلطی کی ہے۔ یہودیوں کی تاریخ سے بالا تفاق ثابت ہے کہ یسوع یعنی حضرت عیسی موسیٰ کے بعد چودھویں صدی میں ظاہر ہوا تھا اور وہی قول صحیح ہے اگر چہ مشابہت کے ثابت کرنے کے لئے پوری مطابقت ضروری نہیں ہوا کرتی جیسا کہ اگر کسی آدمی کو کہیں کہ یہ شیر ہے تو یہ ضروری نہیں کہ شیر کی طرح اس کے پنجے اور کھال ہو اور دم بھی ہو اور آواز بھی شیر کی رکھتا ہو بلکہ ایک شخص کو دوسرے کا مثیل ٹھہرانے میں ایک حد تک مشابہت کافی ہوتی ہے۔ پس اگر عیسائیوں کا قول قبول کر لیں کہ حضرت عیسیٰ حضرت موسیٰ سے پندرھویں صدی میں ہوئے تھے تاہم مضائقہ نہیں کیونکہ چودھویں اور پندرھویں صدی باہم ملحق ہیں اور اس قدر فرق زمانہ کا مشابہت میں کچھ حرج نہیں ڈالتا مگر ہم اس جگہ یہودیوں کے قول کو تر جیح دیتے ہیں جو کہتے ہیں کہ یسوع یعنی حضرت عیسی حضرت موسیٰ کے بعد مین چودھویں صدی میں مدعی نبوت ہوا تھا کیونکہ ان کے ہاتھ میں جو عبرانی تو ریت ہے وہ بہ نسبت عیسائیوں کے تراجم کے صحیح ہے۔ منہ