براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 358
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۵۸ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم اقول توقف اور تاخیر بھی ایک قسم انکار کی ہے۔ اور رہی یہ بات کہ اب تک بہت سے ایمان نہیں لائے ۔ یہ دلیل اس بات کی نہیں ہو سکتی کہ دعوی ثابت نہیں۔ اگر کوئی مامور دلائل اور نشان اپنے ساتھ رکھتا ہے تو کسی کے ایمان نہ لانے سے اس کا دعوی کمزور نہیں ہو سکتا ۔ ماسوا اس کے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک جو لوگ سچے دل سے ایمان لائے تھے وہ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ نہ تھے ۔ پس کیا ان کی کمی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت مشتبہ ہوسکتی ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ نبی برحق کی حقانیت کے لئے ایمان لانے والوں کی کثرت شرط نہیں ہے۔ ہاں دلائل قاطعہ سے اتمام حجت شرط ہے۔ پس اس جگہ منہاج نبوت کی رو سے اتمام حجت ہو چکا ہے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق دو مرتبہ ملک میں کسوف خسوف ہو گیا جو مسیح موعود کے ظہور کی نشانی تھی۔ اسی طرح ایک نئی سواری جس کی طرف قرآن شریف اور حدیثوں میں اشارہ تھاوہ بھی ظہور میں آگئی یعنی سواری ریل جو اونٹوں کے قائم مقام ہوگئی جیسا کہ قرآن شریف میں ہے۔ وَإِذَا الْعِشَارُ عَظِلت یعنی وہ آخری زمانہ جب اونٹنیاں بے کار کی جائیں گی۔ اور جیسا کہ حدیث مسلم میں مسیح موعود کے ظہور کے علامات میں سے ہے ولیتر کن القلاص فلا يسعى عليها ۔ یعنی تب اونٹنیاں بے کار ہو جائیں گی اور اُن پر کوئی سوار نہ ہوگا سو ظاہر ہے کہ وہ زمانہ آ گیا۔ اور یہ بھی لکھا گیا تھا کہ اُس زمانہ میں زلزلے آئیں گے۔ سو وہ زلزے بھی لوگوں نے دیکھ لئے اور جو باقی ہیں وہ بھی دیکھ لیں گے۔ اور لکھا گیا تھا کہ آدم علیہ السلام سے ہزار ششم کے اخیر پر وہ مسیح موعود پیدا ہوگا۔ سواسی وقت میں میری پیدائش ہوئی ہے۔ایسا ہی قرآن شریف نے اس طرف اشارہ کیا تھا کہ وہ مسیح موعود حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح چودھویں صدی میں ظاہر ہو گا یہ سو میرا ظہور چودھویں صدی میں ہوا۔ یعنی جیسا کہ حضرت اگر چہ عیسائیوں نے غلطی سے یہ لکھا ہے کہ یسوع مسیح حضرت موسیٰ کے بعد پندرھویں صدی میں ظاہر التكوير : ۵