براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 357
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۵۷ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کہ مہدی کی حدیثیں سب مجروح اور مخدوش بلکہ اکثر موضوع ہیں اور ایک ذرہ ان کا اعتبار نہیں بعض ائمہ نے ان حدیثوں کے ابطال کے لئے خاص کتابیں لکھی ہیں اور بڑے زور سے ان کو رڈ کیا ہے اور جب کہ یہ حال ہے کہ خود مہدی کا آنا ہی معرض شک اور شبہ میں ہے تو پھر ابدال کا بیعت کرنا کب ایک یقینی امر ہو سکتا ہے۔ جب اصل ہی صحیح نہیں تو فروع کب صحیح ٹھہر سکتے ہیں ۔ ماسوا اس کے ابدال کے سر پر سینگ تو نہیں ہوتے ۔ جولوگ اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کر لیتے ہیں وہی خدا تعالیٰ کے نزدیک ابدال کہلاتے ہیں۔ اگر آپ ہی پاک تبدیلی پیدا کر لیں اور لوگوں کی لعنت ملامت سے لا پروا ہو کر حق پر فدا ہو جائیں تو پھر آپ ہی ابدال میں داخل ہیں۔ میری جماعت میں اکثر ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اس سلسلہ کے لئے بہت دکھ اٹھائے ہیں اور بہت ذلتیں اٹھائی ہیں اور جان دینے تک فرق نہیں کیا۔ کیا وہ ابدال نہیں ہیں شیخ عبدالرحمن - امیر عبدالرحمن کے سامنے اس سلسلہ کے لئے گلا گھونٹ کر مارا گیا۔ اور اُس نے ایک بکری کی طرح اپنے تئیں ذبح کرا لیا کیا وہ ابدال میں داخل نہ تھا؟ ایسا ہی مولوی صاحبزادہ عبداللطیف جو محدث اور فقیہ اور سرآمد علماء کا بل تھے اس سلسلہ کے لئے سنگسار کئے گئے اور بار بار سمجھایا گیا کہ اس شخص کی بیعت چھوڑ دو پہلے سے زیادہ عزت ہوگی۔ لیکن انہوں نے مرنا قبول کیا اور بیوی اور چھوٹے چھوٹے بچوں کی بھی کچھ پروانہ کی اور چالیس دن تک پتھروں میں اُن کی لاش پڑی رہی۔ کیا وہ ابدال میں سے نہ تھے؟ اور ابھی میں خدا تعالیٰ سے فضل سے زندہ ہوں اور اللہ تعالیٰ کے بڑے بڑے وعدے ہیں معلوم نہیں کس قدر اور کن کن ملکوں سے پاک دل لوگ میری جماعت میں داخل ہوں گے ماسوا اس کے مسیح موعود کی نسبت تو آثار میں یہ لکھا ہے کہ علماء اس کو قبول نہیں کریں گے کسی ابدال کی بیعت کا ذکر بھی نہیں۔ قولہ ۔ چونکہ حضرت کی اب تک کوئی ایسی تا شیر روشن طور پر ظہور میں نہیں آئی ہے اور دو تین لاکھ آدمی کا حضرت کے سلسلہ میں داخل ہونا گویا دریا میں سے ایک قطرہ ہے۔ پس اگر تا ثیر بین کے ظہور تک کوئی بغیر انکار کے داخل سلسلہ ہونے میں توقف اور تاخیر کرے تو یہ جائز ہوگا یا نہیں؟۔ GIALO