براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 356
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۵۶ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ا قول ۔ میرا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ میں وہ مہدی ہوں جو مصداق من ولد فاطمة۔ و من عشرتی وغیرہ ہے بلکہ میرا دعویٰ تو مسیح موعود ہونے کا ہے۔ اور مسیح موعود کے لئے کسی محدث کا قول نہیں کہ وہ بنی فاطمہ وغیرہ میں سے ہوگا۔ ہاں ساتھ اس کے جیسا کہ تمام محد ثین کہتے ہیں میں بھی کہتا ہوں کہ مہدی موعود کے بارے میں جس قدر حدیثیں ہیں تمام مجروح اور مخدوش ہیں اور ایک بھی اُن میں سے صحیح نہیں۔ اور جس قدر افترا ان حدیثوں میں ہوا ہے کسی اور حدیث میں ایسا افترا نہیں ہوا۔ خلفاء عباسی وغیرہ کے عہد میں خلیفوں کو اس بات کا بہت شوق تھا کہ اپنے تئیں مہدی موعود قرار دیں۔ پس اس وجہ سے بعض حدیثوں میں مہدی کو بنی عباس میں سے قرار دیا اور بعض میں بنی فاطمہ میں سے اور بعض حدیثوں میں یہ بھی ہے کہ رجل من امتى کہ وہ ایک آدمی میری اُمت میں سے ہوگا مگر دراصل یہ تمام حدیثیں کسی اعتبار کے لائق نہیں یہ صرف میرا ہی قول نہیں بلکہ بڑے بڑے علماء اہل سنت یہی کہتے چلے آئے ہیں۔ اور ان حدیثوں کے مقابل پر یہ حدیث بہت صحیح ہے جو ابن ماجہ نے لکھی ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ لا مهدى الا عیسی یعنی اور کوئی مہدی نہیں صرف عیسی ہی مہدی ہے جو آنے والا ہے۔ قوله - پیشین گوئیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جس میں علماء نے بھی تاویل کی ہے اکثر ایسی پائی جاتی ہیں جو بطور رؤیا کے منکشف ہوئی ہیں ۔ الخ ا قول ۔ اس اعتراض کو میں نہیں سمجھ سکا اس لئے جواب سے مجبوری ہے۔ قوله - اہل ظاہر تو چشم باطن نہیں رکھتے اس لئے ان لوگوں کا حضرت مسیح موعود کو نہ پہچاننا کچھ تعجب نہیں مگر جو لوگ اہل اللہ واہل باطن ہیں ان لوگوں کو تو حضرت کو بذریعہ الہام وغیرہ (۱۸۶) پہچاننا ضروری ہے جیسا کہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی مرحوم رسالہ تذکرۃ المعاد میں امام مہدی موعود کے حال میں لکھتے ہیں کہ ابدال از شام و عصائب از عراق آمدہ باوے بیعت کنند ۔ ا قول ۔ یہ تمام اقوال اُس بنا پر ہیں کہ مہدی موعود بنی فاطمہ سے یا بنی عباس سے آئے گا اور ابدال اور قطب اس کی بیعت کریں گے مگر میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ اکابر محدثین کا یہی مذہب ہے