براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 355
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۵۵ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کہ اس کے مرد بنی اسرائیل کی عورتوں کی طرح بھی نہیں۔ کیا گمان ہو سکتا ہے کہ یہ ایک ایسا زمانہ آگیا ہے کہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں۔ اگر غریب بندوں کی دعائیں سننے میں اُس کی کچھ ہتک عزت نہیں تو بولنے میں کیوں ہتک عزت ہے۔ یا در ہے کہ خدا تعالیٰ کے صفات کبھی معطل نہیں ہوتے ۔ پس جیسا کہ وہ ہمیشہ سنتار ہے گا ایسا ہی وہ ہمیشہ بولتا بھی رہے گا۔ اس دلیل سے زیادہ تر صاف اور کونسی دلیل ہو سکتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے سننے کی طرح بولنے کا سلسلہ بھی کبھی ختم نہیں ہوگا۔ اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک گروہ ہمیشہ ایسا رہے گا جن سے خدا تعالیٰ مکالمات و مخاطبات کرتا رہے گا۔ اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ نبی کے نام پر اکثر لوگ کیوں چڑ جاتے ہیں جس حالت میں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ آنے والا مسیح اسی اُمت میں سے ہوگا پھر اگر خدا تعالیٰ نے اس کا نام نبی رکھ دیا تو حرج کیا ہوا ۔ ایسے لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ اس کا نام اُمتی بھی تو رکھا گیا ہے اور امتیوں کی تمام صفات اس میں رکھی گئی ہیں ۔ پس یہ مرکب نام ایک الگ نام ہے اور کبھی حضرت عیسی اسرائیلی اس نام سے موسوم نہیں ہوئے اور مجھے خدا تعالیٰ نے میری وحی میں بار با را متی کر کے بھی پکارا ہے اور نبی کر کے بھی پکارا ہے۔ اور ان دونوں ناموں کے سننے سے میرے دل میں نہایت لذت پیدا ہوتی ہے۔ اور میں شکر کرتا ہوں کہ اس مرکب نام سے مجھے عزت دی گئی۔ اور اس مرکب نام کے رکھنے میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ تا عیسائیوں پر ایک سرزنش کا تازیانہ لگے کہ تم تو عیسی بن مریم کو خدا بناتے ہومگر ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس درجہ کا نبی ہے کہ اُس کی اُمت کا ایک فرد نبی ہو سکتا ہے اور عیسی کہلا سکتا ہے۔ حالانکہ وہ اُمتی ہے۔ قوله - مهدی موعود کی صفت میں جو بعض احادیث میں من ولد فاطمة واقع ہے اور (۱۸۵) بعض میں من عترتی اور بعض میں من اهل بیتی بھی واقع ہے اور یہ بھی واقع ہے کہ یو اطی اسمه اسمی و اسم ابيه اسم ابی۔ پس ان میں سے ہر ایک کی کیا توجیہ ہے بیان فرماویں۔