براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 354 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 354

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۵۴ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کیا عزت اور کیا مرتبت اور کیا تاثیر اور کیا قوت قدسیہ اپنی ذات میں رکھتا ہے جس کی پیروی کے دعوی کرنے والے صرف اندھے اور نا بینا ہوں۔ اور خدا تعالیٰ اپنے مکالمات و مخاطبات سے اُن کی آنکھیں نہ کھولے۔ یہ کس قدر لغو اور باطل عقیدہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وحی الہی کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا ہے اور آئندہ کو اللہ کا گیا قیامت تک اس کی کوئی بھی امید نہیں۔ صرف قصوں کی پوجا کروپس کیا ایسا مذ ہب کچھ مذہب ہو سکتا ہے جس میں براہ راست خدا تعالیٰ کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا جو کچھ ہیں قصے ہیں۔ اور کوئی اگر چہ اس کی راہ میں اپنی جان بھی فدا کرے اُس کی رضا جوئی میں فنا ہو جائے اور ہر ایک چیز پر اُس کو اختیار کر لے تب بھی وہ اس پر اپنی شناخت کا دروازہ نہیں کھولتا اور مکالمات اور مخاطبات سے اس کو مشرف نہیں کرتا۔ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زمانہ میں مجھ سے زیادہ بیزارایسے مذہب سے اور کوئی نہ ہوگا۔ میں ایسے مذہب کا نام شیطانی مذہب رکھتا ہوں نہ کہ رحمانی۔ اور میں یقین رکھتا ہوں کہ ایسامذہب جہنم کی طرف لے جاتا ہے اور اندھا رکھتا اور اندھا ہی مارتا اور اندھا ہی قبر میں لے جاتا ہے مگر میں ساتھ ہی خدائے کریم و رحیم کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اسلام ایسا مذہب نہیں ہے بلکہ دنیا میں صرف اسلام ہی یہ خوبی اپنے اندر رکھتا ہے کہ وہ بشرط کچی اور کامل اتباع ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکالمات الہیہ سے مشرف کرتا (۱۸۴) ہے۔ اسی وجہ سے تو حدیث میں آیا ہے کہ علماء امتى كانبیاء بنی اسرائیل یعنی میری اُمت کے علماء ربانی بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں۔ اس حدیث میں بھی علماء ربانی کو ایک طرف اُمتی کہا اور دوسری طرف نبیوں سے مشابہت دی ہے۔ اور خود ظاہر ہے کہ جب کہ خدا تعالیٰ قدیم سے اپنے بندوں کے ساتھ ہمکلام ہوتا آیا ہے یہاں تک کہ بنی اسرائیل میں عورتوں کو بھی خدا تعالیٰ کے مکالمہ اور مخاطبہ کا شرف حاصل ہوا ہے جیسے حضرت موسیٰ کی ماں اور مریم صدیقہ کو۔ تو پھر یہ امت کیسی بدقسمت اور بے نصیب ہے