براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 353
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۵۳ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم حدیثوں میں صرف نبی کا لفظ استعمال پاتا اور اُمتی اس کا نام نہ رکھا جاتا تو دھوکا لگ سکتا تھا۔ مگر اب تو صحیح بخاری میں آنے والے عیسی کی نسبت صاف لکھا ہے کہ امامکم منکم یعنی اے امتیو ! آنے والا عیسی بھی صرف ایک اُمتی ہے نہ اور کچھ۔ ایسا ہی صحیح مسلم میں بھی اُس کی نسبت یہ لفظ ہیں کہ امکم منکم یعنی وہ عیسی تمہارا امام ہو گا اور تم میں سے ہو گا یعنی ایک فردامت میں سے ہوگا۔ اب جب کہ ان حدیثوں سے ثابت ہے کہ آنے والا عیسی اُمتی ہے تو کلام الہی میں اس کا نام نبی رکھنا ان معنوں سے نہیں ہے جو ایک مستقل نبی کے لئے مستعمل ہوتے ہیں بلکہ اس جگہ صرف یہ مقصود ہے کہ خدا تعالیٰ اس سے مکالمہ مخاطبہ کرے گا اور غیب کی باتیں اس پر ظاہر کرے گا اس لئے با وجو د امتی ہونے کے وہ نبی بھی کہلائے گا اور اگر یہ کہا جائے کہ اس اُمت پر قیامت تک دروازہ مکالمہ مخاطبہ اور وحی الہی کا بند ہے تو پھر اس صورت میں کوئی اُمتی نبی کیونکر کہلا سکتا ہے کیونکہ نبی کے لئے ضروری ہے کہ خدا اس سے ہمکلام ہو تو اس کا یہ جواب ہے کہ اس اُمت پر یہ دروازہ ہرگز بند نہیں ہے اور اگر اس امت پر یہ دروازہ بند ہوتا تو یہ امت ایک مُردہ اُمت ہوتی اور خدا تعالیٰ سے دور اور مہجور ہوتی اور اگر یہ دروازہ اس امت پر بند ہوتا تو کیوں قرآن میں یہ دعا سکھلائی جاتی کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو خاتم الانبیاء فرمایا گیا (۱۸۳) ہے اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ آپ کے بعد دروازہ مکالمات و مخاطبات الہیہ کا بند ہے۔ اگر یہ معنے ہوتے تو یہ امت ایک لعنتی امت ہوتی جو شیطان کی طرح ہمیشہ سے خدا تعالیٰ سے دور و مہجور ہوتی بلکہ یہ معنے ہیں کہ براہ راست خدا تعالیٰ سے فیض وحی پانا بند ہے اور یہ نعمت بغیر اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کو ملنا محال اور ممتنع ہے اور یہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فخر ہے کہ اُن کی اتباع میں یہ برکت ہے کہ جب ایک شخص پورے طور پر آپ کی پیروی کرنے والا ہو تو وہ خدا تعالیٰ کے مکالمات اور مخاطبات سے مشرف ہو جائے ۔ ایسا نبی الفاتحة : ٦ ،