براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 352
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۵۲ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم جو خدا تعالیٰ سے الہام پا کر پیشگوئی کرے۔ پس جب کہ قرآن شریف کی رُو سے ایسی نبوت کا دروازہ بند نہیں ہے جو بتوسط فیض و اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی انسان کو خدا تعالیٰ سے شرف مکالمہ اور مخاطبہ حاصل ہو اور وہ بذریعہ وحی الہی کے مخفی امور پر اطلاع پاوے تو پھر ایسے نبی اس اُمت میں کیوں نہیں ہوں گے۔ اس پر کیا دلیل ہے۔ ہمارا مذہب نہیں ہے کہ ایسی نبوت پر مہر لگ گئی ہے۔ صرف اُس نبوت کا دروازہ بند ہے جو احکامِ شریعت جدیدہ ساتھ رکھتی ہو یا ایسا دعویٰ ہو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع سے الگ ہو کر دعوی کیا جائے لیکن ایسا شخص جو ایک طرف اُس کو خدا تعالیٰ اُس کی وحی میں امتی بھی قرار دیتا ہے پھر دوسری طرف اس کا نام نبی بھی رکھتا ہے۔ یہ دعویٰ قرآن شریف کے احکام (۱۸۲) کے مخالف نہیں ہے کیونکہ یہ نبوت بباعث اُمتی ہونے کے دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ایک ظل ہے کوئی مستقل نبوت نہیں ہے ۔ اور اگر آپ پورے طور پر حدیثوں پر غور کرتے تو یہ اعتراض آپ کے دل میں ہرگز پیدا نہ ہوتا۔ آپ فرماتے ہیں کہ عیسی نازل ہونے والے کو حدیثوں میں نبی اللہ کہا گیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اُسی عیسی نازل ہونے والے کو حدیثوں میں اُمتی بھی تو کہا گیا ہے کہ کیا آپ قرآن شریف یا حدیثوں سے بتلا سکتے ہیں کہ عیسی ابن مریم جو رسول گذرا ہے اُس کا نام کسی جگہ اُمتی بھی رکھا گیا ہے پس صاف ظاہر ہے کہ یہ عیسی جو امتی بھی کہلاتا ہے اور نبی بھی کہلاتا ہے یہ عیسی اور ہے وہ عیسی نہیں ہے جو بنی اسرائیل میں گذرا ہے جو ایک مستقل نبی تھا جس پر انجیل نازل ہوئی اُس کو آپ کیونکر اُمتی بنا سکتے ہیں۔ صحیح بخاری میں جہاں آنے والے عیسی کا نام اُمتی رکھا گیا ہے اس کا حلیہ بھی برخلاف پہلے عیسی کے قرار دیا ہے ۔ ہاں اگر آنے والے عیسی کی نسبت امتی اس شخص کو کہتے ہیں جو بغیر پیروی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی طرح اپنے کمال کو نہیں پہنچ سکتا پس کیا حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت یہ گمان ہو سکتا ہے کہ وہ اس وقت تک ناقص ہی رہیں گے جب تک دوبارہ دنیا میں آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں داخل نہیں ہوں گے اور آپ کی پیروی نہیں کریں گے ۔ مند