براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 350 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 350

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۵۰ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے وقت باوجود اس کے کہ کفار عین غار ثور کے سر پر پہنچ گئے تھے پھر اُن کی آنکھوں سے پوشیدہ رہے۔ پس ایسے اعتراضات کا یہی جواب ہے کہ خدا کا خاص فضل جو خارق عادت طور پر نبیوں کے شامل حال ہوتا ہے ان کو بچاتا اور اُن کی رہنمائی کرتا ہے۔ رہی یہ بات کہ اگر حضرت عیسی علیہ السلام کشمیر میں گئے تھے تو حواری اُن کے پاس کیوں نہ پہنچے اس کا یہ جواب ہے کہ عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا ۔ آپ کو کس طرح معلوم ہوا کہ نہیں پہنچے ۔ ہاں چونکہ وہ سفر پوشیدہ طور پر تھا جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سفر ہجرت کے وقت پوشیدہ طور پر تھا۔ اس لئے وہ سفر ایک بڑے قافلہ کے ساتھ مناسب نہیں سمجھا گیا تھا جیسا کہ ظاہر ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی تو صرف حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ساتھ تھے اور اُس وقت بھی دونو کوس کا فاصلہ کر کے مدینہ میں جانا سہل امر نہ تھا۔ اور اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو ساٹھ ستر آدمی اپنے ساتھ لے جاسکتے تھے مگر آپ نے صرف ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اپنا رفیق بنایا۔ پس انبیاء کے اسرار میں دخل دینا ایک بے جا دخل ہے۔ اور یہ کس طرح معلوم ہوا کہ بعد میں بھی حواری حضرت عیسی علیہ السلام کے ملنے کے لئے ملک ہند میں نہیں آئے بلکہ عیسائی اس بات کے خود قائل ہیں کہ بعض حواری اُن دنوں میں ملک ہند میں ہیں انبیاء علیہم السلام کی نسبت یہ بھی ایک سنت اللہ ہے کہ وہ اپنے ملک سے ہجرت کرتے ہیں۔ جیسا کہ یہ ذکر صحیح بخاری میں بھی موجود ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی مصر سے کنعان کی طرف ہجرت کی تھی۔ اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی ۔ پس ضرور تھا کہ حضرت عیسی بھی اس سنت کو ادا کرتے۔ سو انہوں نے واقعہ صلیب کے بعد کشمیر کی طرف ہجرت کی ۔ انجیل میں بھی اس ہجرت کی طرف اشارہ ہے کہ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے وطن میں ۔ اس جگہ نبی سے مراد انہوں نے اپنے وجود کو لیا ہے۔ پس اس جگہ عیسائیوں کے لئے شرم کی جگہ ہے کہ وہ ان کو نبی نہیں بلکہ خدا قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ نبی وہ ہوتا ہے جو خدا سے الہام پاتا ہے۔ پس خدا اور نبی کا الگ الگ ہونا ضروری ہے۔ منہ