براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 349 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 349

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۴۹ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم آیت یعنی آیت يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى طالب حق کے لئے کافی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ رفع جس پر ہمارے مخالفوں نے شور مچارکھا ہے وہ موت کے بعد ہے نہ موت سے پہلے کیونکہ خدا کی گواہی سے یہ بات ثابت ہے۔ اور خدا کی گواہی کو قبول نہ کرنا ایماندار کا کام نہیں اور جب کہ بموجب نص قرآن رفع موت کے بعد ہے تو اس سے ظاہر ہے کہ یہ وہی رفع ہے جس کا ہر ایک ایماندار کے لئے مرنے کے بعد خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ عجیب بات ہے کہ خدا تعالیٰ نے تو فقرہ رافعک الی کو فقرہ متوفیک کے بعد بیان فرمایا ہے اور یہ لوگ فقرہ رافعک کو مقدم کرتے ہیں اور فقرہ متوفیک کو بعد میں لاتے ہیں تا کسی طرح حضرت عیسی زندہ آسمان پر بٹھائے جائیں۔ پس اس صورت میں یہودی لوگ تحریف کرنے میں کیا خصوصیت رکھتے ہیں ماسوا اس کے اگر اسی طرح یہودیوں کی طرح ان لوگوں کو اپنے اختیار سے قرآن شریف کو پیش و پس کرنے کا اختیار ہے تو پھر قرآن شریف کی خیر نہیں۔ بھلا کوئی ایسی حدیث تو پیش کریں جس میں ان کو یہ اجازت دی گئی ہو کہ فقرہ رافعک التی پہلے پڑھ لیا کرو۔ اور فقرہ متوفیک بعد میں۔ اور اگر قرآن اور حدیث سے ایسی اجازت ثابت نہیں ہوتی تو پھر اُس لعنت سے کیوں نہیں ڈرتے جو پہلے اُن سے یہودیوں کے حصہ میں آچکی ہے۔ قوله ۔ آپ کے بیان کے مطابق حضرت عیسیٰ صلیب سے نجات پا کر کشمیر کی طرف چلے گئے تھے ۔ پس اول تو اُس زمانہ میں کشمیر تک پہنچنا کچھ آسان امر نہ تھا۔ خصوصاً خفیہ طور پر اور پھر یہ اعتراض ہے کہ حواری اُن کے پاس کیوں جمع نہ ہوئے اور حضرت عیسیٰ زندہ درگور کی طرح مخفی رہے۔ اقول ۔ جس خدا نے حضرت عیسی علیہ السلام کو کشمیر کی طرف جانے کی ہدایت کی تھی وہی (۱۸۰) ان کا رہنما ہو گیا تھا۔ پس نبی کے لئے یہ کیا تعجب کی بات ہے کہ کس طرح وہ کشمیر پہنچ گیا اور اگر ایسا ہی تعجب کرنا ہے تو ایک بے دین اس بات سے بھی تعجب کر سکتا ہے کہ کیونکر ہمارے