براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 341
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۴۱ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ما صلبوہ فرما دیا۔ اور بعد اس کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مَالَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتَّبَاعَ الظَّنِ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِيْنَا ترجمہ : یعنی عیسی نہ قتل کیا گیا اور نہ صلیب دیا گیا بلکہ ان لوگوں پر حقیقت حال مشتبہ کی گئی۔ اور یہود و نصاری جو مسیح کے قتل یا رفع روحانی میں اختلاف رکھتے ہیں محض شک میں مبتلا ہیں۔ اُن میں سے کسی کو بھی علم صحیح حاصل نہیں محض ظنوں اور شکوک میں گرفتار ہیں اور اور وہ مومن ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ آسمان کی طرف اس کا رفع نہیں ہوا کیونکہ خدا تعالی جو جسم اور جہات اور احتیاج مکان سے پاک ہے اس کی طرف رفع ہونا صاف بتلا رہا ہے کہ وہ جسمانی رفع نہیں بلکہ جس طرح اور تمام مومنوں کی روحیں اُس کی طرف جاتی ہیں۔ اسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام کی روح بھی اُس کی طرف گئی۔ ہر ایک ذی علم جانتا ہے کہ قرآن شریف اور احادیث سے ثابت ہے کہ جب مؤمن فوت ہوتا ہے اس کی روح خدا کی طرف جاتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ يَايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبْدِ وَ ادْخُلِی جَنَّتِی یعنی اسے روح اطمینان یافتہ اپنے رب کی طرف واپس چلی آوہ تجھ سے راضی اور تو اس (۱۷۳) سے راضی۔ اور میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میرے بہشت میں داخل ہو جا۔ اور یہی یہودیوں کا عقیدہ تھا کہ مومن کی روح کا رفع خدا تعالیٰ کی طرف ہوتا ہے اور بے دین اور کافر کا رفع خدا تعالی کی طرف نہیں ہوتا اور وہ نعوذ باللہ حضرت عیسی علیہ السلام کو کافر اور بے دین سمجھتے تھے کہ اس شخص نے خدا پر افتراء کیا ہے اور یہ سچا نبی نہیں ہے۔ اور اگر سچا ہوتا تو اُس کے آنے سے پہلے الیاس نبی دوبارہ دنیا میں آتا۔ اسی لئے وہ لوگ یہی عقیدہ رکھتے تھے اور اب تک رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کی روح مومنوں کی طرح خدا تعالیٰ کی طرف نہیں گئی بلکہ نعوذ باللہ شیطان کی طرف گئی۔ اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہود کو جھوٹا ٹھہرایا اور ساتھ ہی عیسائیوں کو بھی دروغ گو قرار دیا۔ یہود نے حضرت عیسی علیہ السلام پر بڑے بڑے ا النساء : ۱۵۸ الفجر : ۲۸ تا ۳۱